مُذاکرہ

مہمان


مصنف موضوع: مثالی اصول اور قانون  (پڑھا گیا 91 بار)

Administrator

  • Administrator
  • Newbie
  • *****
  • تحریریں: 9
  • سچ سے دستبرداری کی کوئی قیمت نہیں ہوتی
    • خاکہ دیکھیے
مثالی اصول اور قانون
« بروز: جون 12, 2017, 01:41:06 ص »
جو قوم بھی آئیڈئیل اصولوں سے قریب تر ہوتی جائے اس کا سفر عروج کی جانب ہوتا ہے اور جو آئیڈئیل سے دور ہوتی جائے وہ زوال کی جانب گامزن ہوتی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کسی قوم کا اجتماعی شعور اپنے اعمال کی بنیاد اصولوں کے کس مجموعے کو بنا رہا ہے۔
آئیڈئیل اصولوں پہ یقین رکھنا اور آئیڈئیل پہ ہو بہو عمل کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اسی طرح اصول اور قانون دو مختلف باتیں ہیں۔ اصول یا پرنسپلز وہ بنیادی سانچے ہیں جن سے قوانین نکلتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ انصاف ہونا چاہیئے قانون یہ طے کرے گا کہ کس مقام پہ انصاف سے کیا مراد ہے۔ اصول یہ ہے کہ معاشرے میں جنسی اختلاط ازدواجی رشتے سے جڑا ہے اور قانون یہ طے کرے گا کہ ازدواجی رشتے کی کیا شرائیط حقوق اور فرائض ہوں گے۔ اصول یہ ہے کہ فرد کے حقوق ملکیت کوئی دوسرا فرد یا ادارہ طاقت یا دھوکے سے غصب نہیں کرے گا۔ قانون، حق ملکیت، دھوکہ اور طاقت کی تعریف بتائے گا۔ اسی طرح بے شمار معاملات ہیں جن کی تفصیل سے یہ بات مزید واضح ہو سکتی ہے۔ اب آئیڈئیل معاشرتی اصولِ انصاف کی مثال سامنے رکھیں تو کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ کوئی معاشرہ کہے کہ وہ اس آئیڈئیل سے ہٹ کے کسی اور اصول پہ بنیاد رکھے گا اور وہ معاشرہ کامیاب بھی ہو گا۔ یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ انصافف سے ہٹ کر جو بھی بنیادی اصول اپنایا جائے گا وہ ظلم ہو گا اور اس میں طاقت کی بنیاد پہ فیصلے ہوں گے۔ سو بنیادی آئیڈئیلز کی حد تک تو سو فیصد پہ ہی نظر رکھنی لازم ہے، گنجائش قانون سازی اور اس میں عمل کے حوالے سے ہے جہاں ایسے آئیڈئیلز جو ہر زمان و مکاں میں یکساں طور لاگو ہو سکیں ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ یہ پریگمیٹزم کا مقام ہے اور جو اس مقام پہ پریگمیٹزم چھوڑ کر آئیڈئیل تخلیق کرنا چاہے اور آئیڈئیل سے کم پہ راضی نہ ہو وہ تو ہمیشہ ہی پریشان رہے گا۔ اس کی واضح ترین مثال وہ اجتہادی قوانین ہیں جو ہزار سال پہلے کے عرب معاشرے میں تو کئی مسائیل سے بخوبی نمٹ سکتے تھے لیکن آج کی ضرورتوں کے سامنے بالکل ناکارہ نظر آئیں گے۔ جن لوگوں کی نظر میں وہ قوانین یا اعمال آئیڈئیل ہیں اور وہ انہی کو آج کے دور میں ہوبہو نافذ کرنا چاہیں وہ خود بھی ناکام ہوں گے اور معاشرے کو بھی ناکامی کی جانب دھکیلیں گے۔
« آخری ترمیم: جون 19, 2017, 06:09:49 ش منجانب Administrator »