مُذاکرہ

مہمان


مصنف موضوع: تقویٰ اور متقی (جزو دوم )  (پڑھا گیا 92 بار)

sohail

  • Administrator
  • Newbie
  • *****
  • تحریریں: 23
    • خاکہ دیکھیے
تقویٰ اور متقی (جزو دوم )
« بروز: جون 30, 2017, 09:35:45 ص »
تقویٰ اور متقی  (جزو   دوم )

جزو اول میں قرآنی اصطلاحِ تقویٰ سے وابسطہ فکر کی اہمیت کا ذکر کر کے اس اصلاح کے قرآن میں استعمال کا مطالعہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔تقوی کی  کوئی حتمی مختصرتعریف کرنا  شاید ممکن نہیں ۔ اگر قرآن کے تمام اوامر و نواحی ہی کو تقویٰ کی تعریف کہا جائے تو شاید یہ حقیقت سے زیادہ قریب تر ہو گا۔ پچھلے تعارفی اجزا کے بعد ہم اپنا اصل سفر شروع کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ قرآن مجید میں تقویٰ کا کن مقامات پر اور کیسے استعمال ہوا ہے۔ اس جزو میں پانچ مقامات سامنے لائے جا رہے ہیں جہاں تقویٰ کا لفظ کسی متضاد لفظ کے  ساتھ جوڑے کی شکل میں آیا ہے۔ الفاظ کا یہ تضاد لفظ سے وابسطہ فکر کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے سو اس پہ غور کیجیئے۔ 

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ [92:5] وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ [92:8]

اس مقام پر اتقیٰ استغنیٰ کے مقابل آیا ہے۔ استغنی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ہر شے سے بے نیاز ہے اور اس کا یہ مقام ہے۔ بندہ بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے رستے کا پابند رہنا ہے اور یہ اس کا تقویٰ ہے۔

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا [78:31] إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًۭا [78:21] لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًۭا [78:22]


یہاں متقین کا لفظ طاغین کے مقابل آیا ہے۔
طغیٰ کا مفہوم حد سے تجاوز کرنا یا سرکشی ہے۔ سمندر یا دریا کے پانی میں طغیانی آتی ہے تو وہ حدوں سے تجاوز کرتا ہے۔ اس حوالے سے تقویٰ کا مفہوم ہوا حدود کا خیال کرنا اور طغیانی یا سرکشی نہ کرنا۔

وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى [18:92] لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى [15:92] 
 
یہاں تقویٰ اشقیٰ کے مقابل آیا ہے۔ شقی کے مفاہیم میں سختی، تکلیف اور بدبختی شامل ہیں۔ شقی کے مقابل قرآن میں سعید بھی آیا ہے۔ یعنی تقی اور سعد دونوں شقی کے متضاد ہیں۔ مشقت سختی میں سے گزرنے کو کہتے ہیں اور شقی القلب سخت دل انسان کو کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تقویٰ کا مفہوم نرم دلی اور سعادتمندی ہے۔

وَإِنَّهُۥ لَتَذْكِرَةٌۭ لِّلْمُتَّقِينَ [48:68] وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ [49:69]

یہاں متقین کا ذکر مکذبین کے مقابل ہوا ہے۔ مکذبین وہ ہیں جو دین کو جھٹلاتے   ہیں سو متقی اس حوالے سے وہ ہوا جو دین کو سچ جانتا ہو۔

وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ [26:90] وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ [26:91]

اس مقام پہ متقین کے مقابل غاوین آیا ہے۔ غاوین غوی سے ہے جس کا معنی صحیح راہ سے بھٹک جانا یا دھوکا کھانا۔ اغوا سے بھی عمومی مراد کسی کو اٹھا کر اپنے مقام سے دور لے جانے کے ہیں۔  اس حوالے سے تقویٰ کا معنی ہوا صحیح رستہ پر رہنا دھوکہ کھانے سے بچنا۔

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى مَقَامٍ أَمِينٍۢ [44:51] فِى جَنَّـٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ [44:52] إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ [44:43] طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ [44:44]


یہاں متقین کا استعمال اثیم کے مقابل ہوا ہے۔ اثم کا عمومی معنی گناہ یا اللہ کی نافرمانی ہے۔ الاٰثم اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تھکان کی وجہ سے آہست چلے۔ اس سے اثم ایسے اعمال ہوئے جو انسان کو کمزور کر دیں۔ اس حوالے سے تقویٰ گناہ سے بچنا اور اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوا کہ انسان ان اعمال سے بچے جو اس کی ذات کو اس کے جسم کو اس کی روح کو اس کی خودی کو کمزور کریں۔


وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ [9:114] وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [9:115]

ان آیات میں تقوی ٰ کا مفہوم جاننے سے پہلے اواہ اور حلیم کا معنی جاننا ضروری ہے۔ اواہ کا مادہ' اوہ' ہے جسے ہم اب بھی عموماً اس وقت بولتے ہیں جب کسی دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنے کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ حلیم حلم سے ہے اور حلم وہ متانت و سنجیدگی ہے جو ذہنی بلوغت سےآتی ہے جس میں جذباتیت کی جگہ ٹھڈے دل سے چیزوں پر غور کرنے اور ردِ عمل دینے کی صلاحیت غالب آ جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم کے بارے میں اواہ حلیم کے صفت بیان کر کے ان کی اعلیٰ انسانی ارتقا سے آگاہ کیا  گیاہے کہ ان کے اعمال کی کیا تحریک تھی یعنی انہوں نے کام اپنے دردمند دل اور ٹھندی سوچ کی بنیاد پر کیا تھا نہ کہ کسی جذباتی ردِ عمل کے طور پر۔

ان آیات میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالی سے اپنے والد کے لیئے مغفرت کی درخواست کی لیکن پھر جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ ان کے والد کا معاملہ اللہ سے دشمنی کا ہے تو  حضرت ابراہیم نے اس معافی کی خواہش سے براءت کا اظہار کر دیا۔
یہاں مزید کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو رستہ دکھا کر گمراہ کر دے جب تک اس پر تقویٰ کو واضح نہ کر دے۔ اگر غور کریں تو واضح ہو تا ہے کہ یہاں تقویٰ سے مراد درست اور غلط میں تمیز کی صلاحیت ہے جو اگر انسان کو ودیعت ہو جائے تو انسان پھر اس کی بنا پر فیصلہ کرتا ہے نہ کہ اس بنا پر کہ فلاں میرا بیٹا ہے یا باپ۔ حضرت ابراہیم اگرچہ اپنے باپ کے غلط رویئے سے آگاہ تھے لیکن پھر بھی بطور ایک بیٹے کے انہوں نے اپنے باپ کے لیئے مغفرت کی خواہش کی۔ لیکن جب ان کا علم اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اصولوں میں آگے بڑھا تو ان کو پتہ چلا کہ جب کوئی انسان اللہ کی دشمنی میں آگے بڑھ جائے تو وہ خود ہی اپنی مغفرت کے دروازے بند کر دیتا ہے اور ایسے میں کسی بھی انسان کے لیئے اس کی مغفرت کی خواہش یا درخواست  نہ صرف بے معنی ہے بلکہ تقویٰ سے متصادم ہے۔ 

اس مکالمے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ہر شے کا علم رکھنے کا تذکرہ نہایت لطیف بیان ہے جسے الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
« آخری ترمیم: جولاي 01, 2017, 02:00:28 ص منجانب sohail »