مُذاکرہ

مہمان


تازہ تحریریں

صفحات: [1] 2 3 ... 10
1
اردو شاعری / عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا- اسد اللہ خان غالب
« آخری تحریر منجانب نبیل اکبر بروز جنوري 22, 2018, 12:01:36 ش »

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

تجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام
مِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانا

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا

ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

دِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا

ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا
روتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جانا

گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے گردِ رہِ جَولانِ صبا ہو جانا

تاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صَیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا

بخشے ہے جلوۂ گُل، ذوقِ تماشا غالبؔ
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

2
اردو شاعری / نہ ہوگا کاوشِ بے مدّعا کا رازداں برسوں-اصغر گونڈوی
« آخری تحریر منجانب نبیل اکبر بروز جنوري 12, 2018, 04:40:09 ش »

نہ ہوگا کاوشِ بے مدّعا کا رازداں برسوں
وہ زاہد، جو رہا سرگشتۂ سود و زیاں برسوں

ابھی مجھ سے سبق لے محفلِ رُوحانیاں برسوں
رہا ہوں میں شریکِ حلقہٴ پیرِ مُغاں برسوں

کچھ اس انداز سے چھیڑا تھا میں نے نغمۂ رنگیں
کہ فرطِ ذوق سے جھومی ہے شاخِ آشیاں برسوں

جبینِ شوق لائی ہے وہاں سے داغِ ناکامی   
یہ کیا کرتی رہی کم بخت، ننگِ آستاں برسوں   

وہی تھا حال میرا، جو بیاں میں آ نہ سکتا تھا   
جسے کرتا رہا افشا، سکوتِ رازداں برسوں   

 نہ پوچھو، مجھ پہ کیا گزری ہے میری مشقِ حسرت سے 
قفس کے سامنے رکھّا رہا ہے آشیاں برسوں   

خروشِ آرزو ہو، نغمۂ خاموش الفت بن   
یہ کیا اک شیوۂ فرسودۂ آہ و فغاں برسوں   

نہ کی کچھ لذّتِ افتادگی میں اعتنا میں نے   
مجھے دیکھا کِیا اُٹھ کر غبارِ کارواں برسوں   

وہاں کیا ہے؟ نگاہِ ناز کی ہلکی سی جنبش ہے   
مزے لے لے کے اب تڑپا کریں اربابِ جاں برسوں   

محبّت ابتدا سے تھی مجھے گُلہائے رنگیں سے   
رہا ہوں آشیاں میں لے کے برقِ آشیاں برسوں   

میں وہ ہر گز نہیں جس کو قفس سے موت آتی ہو   
میں وہ ہوں جس نے خود دیکھا نہ سوئے آشیاں برسوں   

غزل میں دردِ رنگیں تُو نے اصغر بھر دیا ایسا   
کہ اس میدان میں روتے رہیں گے نوحہ خواں برسوں   

3
اردو شاعری / سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے - فیض احمد فیض
« آخری تحریر منجانب نبیل اکبر بروز جنوري 12, 2018, 04:32:33 ش »


سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی!
ہاں، ہم ہی کاربندِ اُصولِ وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بُھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے 

کیوں دادِ غم ہمیں نے طلب کی، بُرا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے

گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدح خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے

لب پر ہے تلخیِ مئے  ایّام، ورنہ فیض
ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
4
فلسفہ / ہیگل کے تصورات فینامینالوجی
« آخری تحریر منجانب مراد خان بروز دسمبر 30, 2017, 10:22:31 ص »
ہیگل کے تصورات
فینامینالوجی ( شعور کا حسی مشاہدہ یا نالج ، مابعدالطبیعات ) اور لاجک کی وحدت
(پہلا حصہ )
----------------********--------------************------------
خلاصہ تمام پوسٹس :

* فینامینالوجی :
فی الحال فینامینالوجی سے مطلب صرف آبجیکٹ کا حسی نالج ، نوشن ، مابعدالطبیعات، تاریخ، کلچر ، ....شعور کی ارتقائی ڈیولیپ منٹ وغیرہ ہیں.

* لاجک :
ریاضیاتی و منطقی سٹرکچر کی تشکیل ہیں .

فینامینالوجی اور لاجک کے عنوان کے تحت ہم مختلف "سب ارٹیکلز " پر ون بائی ون لکھتے جائے گے . اس مکمل حصہ کا مقصد یہ ہے کہ کس طرح ہیگل مادی (حسی، مظہریت) کے نالج کو اہستہ اہستہ بتدریج مابعدالطبیعاتی تصورات کی طرف لے جاتا ہے اور بعد میں حسی نالج ، مابعدالطبیعات اور لاجک کو ایک وحدت میں ملاتا ہے .

اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہیگل کو حسی نالج ، مابعدالطبیعات اور لاجک کو ایک وحدت دینے کے لیے کونسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہیں ، اور ان پر وہ کیسے عبور حاصل کرنی کی کوشش کرتا رہتا ہے.
شعور جس ابجیکٹ کا نالج وصول کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے وہ دنیا بہت وسیع ہے ، اب اس نالج کو ایک محدود فریم ورک یعنی ریاضیاتی سٹرکچر یا لاجک میں بند کر کے تصورات کے درمیان باقاعدہ تعلق قائم کرنا ایک مشکل کام ہے . اس وجہ سے ہیگل فینامینالوجی ( شعور سے گرفت میں لینے والا ورلڈ ) کو جب لاجک ( ریاضیاتی سٹرکچر ) میں بند کرتا ہے تو اسے ریاضیاتی سٹرکچر کا فریم ورک محدود لگتا ہے گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے شعور کی طاقت " نوشن " کو محدود ریاضیاتی سٹرکچر میں قید کر دیا ہے . ایک طرف ہیگل کو اس قید سے دقت ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف کائنات کا شعور کے لیے بکھرے ہوئے نالج کو ترتیب دینا بھی اہم ہے ، یہی ساری گفتگو ہمیں ڈسکس کرنے ہونگے .
اسی طرح ہیگل کو ابجیکٹ کے مابعدالطبیعاتی رئیلٹی کو سبجیکٹ (مائنڈ ) سے جوڑنا پڑتا ہے تاکہ ہم حسی ورلڈ سے ازاد ہو کر غیر مادی ورلڈ سبجیکٹ ( مائنڈ) میں جا سکے . ہیگل چونکہ فلاسفر ہے تو وہ براہ راست یا فورا شئے کے نالج کو گرفت میں لینے کے قائل نہیں ہے بلکہ ان کے مطابق کسی ابجیکٹ کی رئیلٹی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہیں اور ان چھوٹے چھوٹے رئیلٹی کے ٹکرے اپس میں ایک تعلق قائم کیے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی یہ رئیلٹی ہمارے مائنڈ کے ساتھ جدلیاتی تعلق سے باندھے ہوئے ہیں.. گویا ابجیکٹ مائنڈ کے بغیر اور مائنڈ ابجیکٹ کے بغیر آزادانہ نہیں رہ سکتے . ابجیکٹ کے اندرونی صفات کے درمیان ایک تقلق رہتا ہے اور اسی طرح ابجیکٹ یا خارج سے ہمارے شعور کا جدلیاتی رشتہ قائم و دائم ہے . ابجیکٹ کے صفات کے درمیان تعلق کے ہر ہر ٹکڑے کی حقیقت ( رئیلٹی ) کو جب شعور گرفت میں لیتی ہے تو یہی متحرک پراسیس ہی شعور کو ابجیکٹ یا خارج کی رئیلٹی یا ٹروتھ یا نالج دیتی ہیں...
یعنی ہیگل ابجیکٹ کے فی الفور نالج کی تائید نہیں کرتے .
اب ابجیکٹ کے اندرونی صفات اور شعور کے ساتھ تعلق کو جدلیاتی (لاجکلی و ریاضیاتی سٹرکچر ) دینا ہوگا.
مختصرا ہمارا مقصد ابجیکٹ کا حسی و مابعدالطبیعاتی رئیلٹی کو مائنڈ (سبجیکٹ ) کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے اور اخر میں خارج (ابجیکٹ، مادی) سے ازاد مائنڈ کے" نوشن " کو جدلیاتی (ریاضیاتی سٹرکچر ) بنانا ہے تاکہ مائنڈ اپنے اندر ہی اپنے "شعوری ابجیکٹ" سے ڈیل کرتا رہیں .

اس مقصد کے لیے درجہ زیل عنوانات پر ون بائی ون لکھتے رہے گے. ( ان شاء اللہ )

* منطقی میتھڈ اف سٹرکچر اور کانشس نس کا مسئلہ

* جدلیاتی سکیما اور فارمولزم کا مسئلہ

* سائنسی کاگنیشن اور دی انڈرسٹنڈنگ سکیمیٹسزم

* بینگ ، تھاٹس اور نوشن

* سبجیکٹ ، کوالٹی اور نوشن

* ارگومنٹیشن اور سپیکولیٹیو ڈائیلیکٹکس اپروچ ٹو ابجیکٹ

نوٹ : اب اسی پوسٹ میں ہم پہلے "سب ارٹیکل " پر ہیگل کے حوالے سے لکھتے ہیں.

* منطقی میتھڈ اف سٹرکچر اور کانشس نس کا مسئلہ
------------------*****-----------------********-------------------
یہ بات یاد رہیں کہ ریاضی کے محدودیت اور تنگ دامنی پر ہیگل نے کھڑی تنقید کی ہے .اسی طرح فارمل لاجک سے بھی ہیگل مطمئن نہیں تھے .

(نوٹ : ریاضی و فارمل لاجک پر ہیگلیائی تنقید پر الگ تفصیلی پوسٹ لکھیں گے کہ کس طرح ہیگل ریاضی و فارمل لاجک سے مطمئن نہیں تھے )

اب ہیگل کے مطابق فینامینالوجی کسی شئے کی حقیقت کو گرفت میں لینے کے لیے ایک شعوری(مائنڈ) مومنٹ کا نام ہے ، یہ شعوری مومنٹ تاریخ ، مذہب ، کلچر ... مادی سائنس ... وغیرہ کے ہر زمانے و دور کو بھی ایک ساتھ ملانے پر محیط وسیع پیمانے کے پراسیس کا نام ہیں ، جس میں کانشس نس کے تمام شکلیں اور وقت کے ساتھ نالج کی ارتقاء سب کچھ شامل ہیں گویا یہ فینامینالوجی وسیع جہت سائیڈ تو فلاسفی کی سائنس کے منجملہ جہات پر مشتمل ہوتا ہے .

جبکہ دوسری سائیڈ پر لاجک کسی شئے کے اندرونی صفات کے درمیان ریلیشنز اور ریاضیاتی سٹرکچر ہے . اب زمانہ قدیم سے یہ کوشش ہوتی رہتی تھی کہ کس طرح ہمارے خیال (تھاٹس) کو ریاضیاتی ماڈل میں بند کیا جائے تاکہ ہم کسی شئے کے اندر یا اشیاء کے درمیان ایک منطقی زبان ڈیولیپ کر سکے اور ہمیں معلوم ہو کہ کسی شئے کے اندرونی صفات یا اشیاء کے درمیان منطقی تعلق کیا ہے ؟اور اس منطقی زبان کی تشکیل سے ہمارے مائنڈ کا منطقی طور پر سوچنے کے بارے میں بھی معلوم ہو سکے کہ ہم کیسے سوچتے ہیں ؟

ہیگل یہ خیال رکھتا ہے کہ قدیم فلاسفر کی یہ بات بہتر ہے کہ کوئی شئے یعنی اس کے صفات و اندرون یا شعور کے ساتھ تعلق وغیرہ منطقی طور ریاضیاتی طور پر تشکیل ہو جائے اور یہ ایک قسم سے ڈیولیپ منٹ بھی ہے کہ شعور یا خیال اور ابجیکٹ کو منطقی و ریاضیاتی آرگنائزڈ فریم ورک مہیا ہو جائے کیونکہ اس ریاضیاتی فیشن کے بعد ہم حقائق کو اسانی سے سمجھ سکتے ہیں ....گویا ہیگل خیال اور ابجیکٹ وغیرہ کے درمیان یہ فائنل فارمولیشن کی نفی نہیں کرتے کہ خیال یا ابجیکٹ کے درمیان منطقی فریم ورک نہ ہو یا قدیم فلاسفرز کا یہ کاوش غلط تھا .

لیکن ہیگل اس بات پر حیران ہے کہ ایسا منطقی فریم ورک تشکیل کرنا ممکن نہیں ہے کہ ہر ہر شئے کو منطقی سٹرکچر دی جا سکتی ہے .
ہیگل کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ فلاسفی (خیال) بذات خود اشیاء کے گہرائی میں حقائق کی تلاش کا نام ہے ، ساتھ ہی ماضی کے حقائق کے ساتھ موجودہ حقائق کی وابستگی شعور کا حصہ ہے ، اس لیے ان کو کوئی ریاضیاتی یا منطقی فریم ورک دینا ممکن نہیں ہے .
ریاضیاتی فریم ورک یقینا طاقتور ہے لیکن ایک قسم سے سکونی ہے اور اس میں وہ متحرکیت نہیں ہے جو شعور کو حاصل ہے ،گویا ریاضیاتی فریم ورک حقیقتا زیادہ ڈیولیپ فریم ورک نہیں ہے .
اس لیے ہیگل فلاسفہ قدیم کے ریاضیاتی وضاحتوں (explinations ) ، axioms ، تھیورمز ، ڈیڈکشنز اور conclusions ...وغیرہ کا تذکرہ کرتا ہے کہ قدیم فلاسفرز نے یہ ریاضیاتی فریم ورک تیار کیے تھے اور اس قسم کے فریم ورک سے انہوں نے فلاسفی کو پیش کیا تھا ، لیکن کیا اس قسم کا ریپریزنٹیش (ریاضیاتی سٹرکچر) حقیقی فلاسفی یعنی خیال جو کہ بذات خود ایک ارتقائی پراسیس ہے ، کی بہترین ریپریزنٹیش ہے ؟
ہیگل کے مطابق یہ منطقی ریپریزنٹیش یا فریم ورک خیال یا فلاسفی کا بہترین ریپریزنٹیش نہیں ہے . ہیگل منطقی یا ریاضیاتی فریم ورک کو کسی شئے کے اندرونی صفات کے درمیان تعلق یا اشیاء کے درمیان تعلق کو منطقی تشکیل کہہ بھی رہے ہے اور اسے غلط نہیں مانتا لیکن فینامینالوجی یعنی خالص شعور سے کسی شئے کا مشاہدہ کرنا ، اس کے اندرونی صفات کو شعوری طور پر گرفت میں لینا وغیرہ کو شعور کی دریافت کہہ رہے ہیں . اس وجہ سے ہیگل کہہ رہے ہے کہ یقینا یہ خالص شعوری دریافت بھی پراسیس ہے لیکن اس میں انسانی چائس (فری ویل) شامل ہے. اسی طرح شعور یکایک فیصلہ کرتا ہے کہ نہیں اس شئے کی اندرونی حقائق اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے ( یعنی یکایک حقائق کے گرفت میں لینے کے لیے شعور سمت تبدیل کرتا رہتا ہے ) ...یہ سب کچھ خالص شعور ہی کر سکتا ہے.

ریاضیاتی فریم ورک اس قسم کی فری ویل یکایک سچائی کو گرفت میں لینے کے لیے سمت تبدیل کرنا نہیں کر سکتا .

ہیگل کے مطابق جب ہم اشیاء کو منطقی یا ریاضیاتی ماڈل بنانا چاہتے ہے تو ہم اپنی انڈرسٹنڈنگ (شعور) کو اس شئے کے متعلق محدود یا قید کرتے ہے جس کی حقیقت کو ہمیں گرفت میں لینا ہے .
ان سب گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ اس طریقے سے ہیگل منطقی و ریاضیاتی طور پر اشیاء کے فریم ورک پر کھڑی تنقید کرتا رہتا ہے اور یہ بات واضح کرنا چاہتا ہے کہ شعور ازادانہ طور پر اشیاء کی حقائق کو اپنی طور پر جس طرح گرفت میں لینا چاہتا ہے اسی شعور کا ڈومین بہت وسیع ہے جبکہ منطقی و ریاضیاتی فریم ورک کا دامن یا ڈومین محدود ہے .

اسی طرح ہیگل یہ بات بھی سامنے لاتا ہے کہ ریاضی اعداد ( ہندسہ ) یعنی مقدار (میگنیچئوڈ ) سے اشیاء کو سامنے لاتا ہے اور اشیاء کے اندرونی تعلق کو مقداروں میں ظاہر کرتا ہے تو اشیاء کے درمیان یہ تعلق ایک بے جان (lifeless ) تعلق ہوتا ہے مطلب یہ کہ اس تعلق میں مومنٹ یعنی حرکت ( جو کہ ہیگلیائی فلاسفی کا مرکزی نکتہ ہے) اور ارتقاء ڈیولیپ منٹ نظر نہیں اتا ہے.
اب ہیگل کہہ رہے ہے کہ یہ تمام ریاضیاتی فریم ورک پرانا فیشن ہے اور چونکہ ٹروتھ ایک مومنٹ یعنی ارتقائی طور پر متغیر شئے کا نام ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح کسی شئے کی ٹروتھ جو کہ ایک مومنٹ (حرکت) ہے ، کو ہم ریاضیاتی فریم ورک میں بند کر سکتے ہیں ؟ ہیگل کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے.
اسی طرح سوال یہ ہے کہ ہم ٹروتھ کو منطقی فریم ورک میں باترتیب کس طریقے سے بند کر دے ؟
چونکہ ہیگل کے مطابق ٹروتھ ریپلیکسو ہوتے ہیں مطلب ٹروتھ بذات خود حرکت کرتا رہتا ہے کیونکہ ہیگل کے مطابق ٹروتھ سکونی نہیں ہے کہ ایک شئے کے بارے میں مطلق ٹروتھ ہی ہوتا ہے بلکہ ٹروتھ ہیگل کے مطابق اضافی اور متحرک شئے کا نام ہے .
اب اس ٹروتھ کو ہم منطقی فریم ورک میں بند نہیں کر سکتے . اس متحرک ٹروتھ کو ہم شعور سے ہی گرفت میں لیتے رہتے ہیں کیونکہ ہم ہر سابقہ ٹروتھ کے اندر شعور سے ہی جھانکتے رہتے ہیں اور ہم پر اسی ٹروتھ کے اندر سے مذید سچائیاں یا ٹروتھ کا ظہور ہوتا رہتا ہے ....مختصر کسی ابجیکٹ کا ٹروتھ کوئی مستقل شئے نہیں ہے اور اس وجہ سے اس ٹروتھ کو بھی منطقی فریم ورک دینا اسان کام نہیں ہے .

اس طرح کسی ابجیکٹ کے ٹروتھ کو گرفت میں لینے کے لیے ہم ( شعور) بذات خود اس کا حصہ ہوتا ہے جبکہ ریاضیاتی یا منطقی فریم ورک کسی درجہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو ابجیکٹ ، ان کے صفات کے درمیان تعلق یا مختلف ابجیکٹس کے درمیان تعلق پر خارج سے اپلائی کرنا ہوتا ہے .... اس وجہ سے ہیگل منطقی فریم ورک یا قدیم فلاسفرز کی منطقی و ریاضیاتی سٹرکچرز ، اور خیال ( شعور) کو ایک منطقی فریم ورک میں بند کرنے پر تنقید کر رہے ہیں .

اب ہیگل مزید اگے بڑھ رہے ہے کہ ہیومن چائس ، تاریخ ، کلچر ، انسانی جذبات .... وغیرہ کو ہم ایک ریاضیاتی اور منطقی فریم ورک دے ہی نہیں سکتے ... پس ہیگل کے مطابق یہ ریاضیاتی و منطقی فریم ورک ریاضی کی حد تک درست ہے لیکن یہ تاریخ ، کلچر ، خیال و فلاسفی کے تمام جہات کو فریم ورک دینے اس کی بس کا کام نہیں ہے . اس وجہ سے یہ ریاضیاتی فریم ورک " ہول " یا ایبسلوٹ کو تشکیل نہیں کر سکتا .

نتیجہ : اس پوسٹ سے کم از کم یہ بات سامنے ائی کہ ہیگل فینامینالوجی یعنی شعور سے اشیاء کے صفات ، ان صفات کے درمیان تعلق ، ٹروتھ مومنٹ ، تاریخ ، کلچر... وغیرہ کو وسیع معنوں میں دیکھتا ہے اور شعور سے ان اشیاء کی ٹرو نالج کے لیے شعور کو وسیع ڈومین کا حامل شئے قرار دیتا ہے ....

جبکہ

منطقی و ریاضیاتی فریم ورک کو غلط نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ اس فریم ورک کو ریاضی کی حد تک یا محدود ڈومین قرار دیتے ہیں...اس طرح اسی فریم ورک سکونی اور اشیاء پر باہر سے اپلائی کرنے جیسا شئے مانتے ہیں .
اسی پوسٹ پر کسی حد تک منطقی فریم ورک (منطقی میتھڈ اف سٹرکچر ) پر ہیگلیائی تنقید اور پہلا مسئلہ سامنے ایا کہ کس طرح فینامینالوجی ( شعور سے اشیاء کا مشاہدہ کرنا) .... کو منطقی فریم ورک سے متحد کی جائے ؟

(جاری ہے )
5
فلسفہ / ہیگل کا تصور سبجیکٹ اور گاڈ
« آخری تحریر منجانب مراد خان بروز دسمبر 25, 2017, 11:43:38 ش »
ہیگل کا تصور ائیڈیا ، ہول ، ایبسلوٹ اور ایکسپرینس ، سبجیکٹ اور گاڈ :
------------*********-------------******--------------
ہیگل کا ہر تصور دوسرے سے پرویا ہوا ہے ، اس لیے اس کے کسی مخصوص تصور کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل مختلف ٹرمز اور تصورات کو سامنے لانا پڑتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہیگل کے ذکر کردہ عنوان کے تصورات کو سامنے لانے کے لیے ایک ٹیبل نیچے دکھایا گیا ہے ان سب پر گفتگو کرنے کے بعد ہم ہیگل کی تصور ہول ، ایبسلوٹ اور گاڈ پر کو سمجھ سکے گے.

ہیگل کا تصور سائنس:

ہیگل کا تصور سائنس ، ایمپیرئیکل سائنس سے کافی مختلف ہے .ہیگل سائنس کو زیادہ وسیع معنوں میں لیتا ہے .ہیگل کے مطابق سائنس سسٹیمیٹک باڈی اف نالج ہوتا ہے اور اس کے گہرائی میں ہمارا روزمرہ کی ایمپریکل سائنس ، سوشل سائنسز ، ایکسپیرئمنٹل (مائنڈ) ، سائنسی میتھڈ ، تاریخ، کلچر ،ارٹ ،مذہب..... سب موجود ہیں . ہیگل کا سائنس خود ریفلیکسیو فطرت رکھتا ہے یعنی اشیاء کی رئیلٹی اشیاء میں دیکھنے کے ساتھ خود شعور میں بھی پرکھتے رہنا . ایمپیرئیکل سائنس کسی درجے محدود ہوتا ہے . ہیگل کی سائنسی رئیلٹی میں سبجیکٹ (شعور) اور ابجیکٹ ( تاریخ، ارٹ، کلچر ، مادہ ، مذہب....) سب کے سب ڈیولیپ ہو رہے ہیں کیونکہ یہ ایک متحرک اور ارتقاء پذید عمل ہے، اور یہ سب " ہول" کا حصہ ہے یعنی کعئی بھی شئے ہول سے خارج نہیں ہے . اسی ہول میں سبجیکٹ ( شعور ) خود اپنی ہی خود شعوری کی رئیلٹی کو بھی گرفت میں لیتی رہتی ہے.
گویا ہیگل کا سائنس وہ "ہول " ہے جس سے ایک بھی شے باہر نہیں ہے اور اسی ہول کی رئیلٹی ایک ارتقاء پذید پراسیس ہی ہیگلیائی سائنس ہے.

ہیگل اپنی سائنسی راستے پر اخری انتہا (ہیگلیائی گاڈ ) تک پہنچنے کے لیے مرحلہ وار فینامینالوجیکل راستہ اپناتا ہے اور اپنے سامنے سوالات بھی رکھتا ہے ، اس لیے کہ وہ ہول کی کھوج لگا رہا ہے کہ اخر ہول کیا شئے ہے اور کون کون سی اشیاء اس کے اندر موجود ہیں... ابتدا میں فارم اور کنٹنٹس سے اغاز کر کے اپنے سامنے چند سوالات رکھتے ہیں.

فارم اینڈ کانٹینٹ :

جب ہم ایک شئے کے بارے میں نالج رکھتے ہے تو کس طرح ہم اسے شئے کو گرفت میں لیتے ہے؟ اور کس طرح ہم اس شئے کو articulate کرتے ہیں؟ ...ارٹیکولیٹ کا مطلب یہ ہے کہ کس طرح ہم اس شئے کو ارگنائزڈ ، سٹرکچر ، کلاسیفائی کرتے ہیں؟ یا کس طرح ہم اس شئے کو دوسرے اشیاء سے ڈیفرنشیٹ کرتے ہیں؟ اسی طرح ہمیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ اس شئے کے کونسے ایریا زیادہ اہم اور کونسے کم اہمیت کے حامل ہے؟ یا کازئیلٹی کس طرح اس شئے میں کام کر رہا ہے؟....وغیرہ
ہیگل کے مطابق یہی مذکورہ بالا سوالات پر کام ارٹیکولیٹنک کانٹینٹ ہی کرتے ہے.
ہیگل کے مطابق ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے کانٹینٹ یا کانٹینٹس (جمع) اتے ہیں اور پھر ہم اسے کنکٹ کرتے ہیں بلکہ حقیقت میں ہم (شعور) ان کانٹینٹس کے ساتھ باندھے (انٹنگلڈ) رہتے ہیں اور ان کنٹنٹس سے ازاد نہیں ہیں کہ باہر کھڑے ان سب کانٹینٹس کو ملاتے ہے اور ان کے درمیان تعلق دیکھتے رہتے ہیں .

بعض اوقات ہمارا تعلق ایک ہی کانٹینٹ کے اندرونی کنکشز سے پڑتا ہے لیکن اکثر زیادہ کنٹنٹس بھی سامنے اتے ہیں.
مثال کے طور پر برین سائنس اور مورئیلٹی ہی دیکھ لیں ، دونوں کے حدود الگ الگ ہے...یا برین سائنس اور ایموشنز کو دیکھ لیں ....کیا جذبات سادہ اشیاء ہے ؟ یا یہ کمسٹری ہے ؟ کیا یہ نیورانز اور ہارمونز کی کنکشنز ہیں ؟ یا یہ جذبات بیرونی برانگیختگی سے پیدا ہوتے ہے؟....وغیرہ
اگر یہی بات ہے تو پھر ہمیں ان کی رئیلٹی کے لیے مختلف approaches اور مختلف اقسام کے کنٹنٹس کی کنکشز ملے ہونگے ....
یہی وجہ ہے کہ جب ہم رئیلٹی کی بات کرتے ہے تو مختلف پہلووں ، فیچرز کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ ہم رئیلٹی کا درست شعور حاصل کر سکے . اس لیے جب ہم "ہول" کی بات کرتے ہے تو گویا ہول ایک کمپلیکس اور ملٹی پلیسٹی کا نام ہے .... ان سب گفتگو سے ہیگل یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جو مختلف فارمز (سٹرکچرز) ہم دیکھتے ہیں ، یہ سٹرکچرز یا ایک قسم کے content کے ریلیشنز یا مختلف contents کے ریلیشنز سے بنے ہوتے ہیں اور ان کی رئیلٹی تک پہنچنا سادہ نہیں ہے .

اس وجہ ہے کہ ہیگل دو اہم سوال کو سامنے لاتا ہے کہ کس طرح ہم

* پہلا سوال یہ ہے کہ " ملٹی پل کانٹنٹس " کو گرفت میں لیتے ہیں ؟

*دوسرا سوال یہ ہے کہ کس طرح ہم سے پہلے لوگوں کی سائنس (ہیگلیائی سائنس) کا ہمیں سینس (ادراک) ہوتا ہے ؟ کس طرح ان کے درست کام کو ہم اپنے سائنس میں شامل اور غلط سائنس کو رد کرتے ہیں؟

ہیگل یہ یقین رکھتا ہے کہ "ہیگلیائی سائنس" جو کہ کل کا نام ہے ، کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ کس طرح ایک شئے کی رئیلٹی میں نئے کانٹینٹس کی دریافت کرنی ہے یا تاحال ہمیں اس کی ادراک نہیں ہے وغیرہ... اسی طرح ہیگلیائی سائنس کی efforts یہ بخوبی جانتا ہے کہ سابقہ(تاریخ ) سائنس سے کیا شامل کیا جائے اور کیا رد کیا جائے...
یہاں تک تو ہیگل نے اوپر ان دو سوالات کی ادراک کو گرفت میں لے لیا اور یہ کہہ دیا کہ ہیگلیائی سائنس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شئے میں کچھ کانٹینٹس تاحال معلوم نہیں ہے اور سابقہ ہیگلیائی سائنس سے کسی شئے کے جدید نالج میں کیا کیا درست یا غلط ہے ....گویا ہیگلیائی سائنس تاریخ کو اپنے ساتھ لے کر اگے چلتا ہے اور اسے بھولتا نہیں .

اب ہیگل مزید اگے بڑھتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ
" ہول" سے ائیڈیا ( شعور ، ایکسپیرئمنٹل ) باہر ہوتا ہے یا اس ہول کا حصہ ہے..... ساتھ ہی صرف شعور سے ایک ہی ائیڈیا تمام ڈسپلینز پر اپلائی کر کے دیکھتا ہے کہ ایا ہول کی رئیلٹی سادہ طریقے سے گرفت میں لیا جا سکتا ہے یا کہ نہیں .....

اب مثال کے طور پر اگر ہم ہیگلیائی سائنس کو whole تصور کر لیں اور
ایک ہی تصور (ائیڈیا)
(one basic concept )
اس ہول کے مختلف کنٹنٹس پر باہر سے اپلائی کرے تو کیا یہ اس ہول کے درست رئیلٹی تک ہمیں پہنچائے گا کہ نہیں ؟ مثال کے طور پر ایک بیسک ائیڈیا اس ہول (میڈیسن ، پارٹیکل فزکس، بیالوجی ، سوشیالوجی، مذہب،تاریخ....... وغیرہ وغیرہ) پر ہم نے اپلائی کیا ، تو اگر یہ بیسک کانسپٹ میڈیسن پر اپلائی کرنگے تو تمام مسائل میڈیسن کے ہی حل کرنے ہونگے....اگر تاریخ پر یہی بیسک کانسپٹ اپلائی کرینگے تو تمام مسائل اور فکٹرز تاریخ کے ہی حل کرنے ہونگے...وغیرہ
تو ہیگل کے مطابق یہ ایک بیسک ائیڈیا تمام ڈسپلنز پر اپلائی کرنا رئیلٹی تک نہیں پہنچا سکتا ... اور یہ boring فطرت ہی پیدا کریگا ... کیونکہ ہول میں ملٹی پلیسٹی ہے .
ایک بیسک ائیڈیا کا تمام ڈسپلینز پر استعمال ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی کہہ دے کہ ہول تو صرف لاجک ہی ہے..یا ہول تو صرف فزکس ہی ہے...یا ہول تو صرف تاریخ ہی ہے... اور صرف اس متعلقہ میدان کے مسائل اور رئیلٹی ہی ہول ہے .
ہیگل کے مطابق یہ دعوی غلط اور boring کا ہے ، اس لیے کہ ہمارے اندر innate خصوصیت ہے کہ ہم رئیلٹی از اے ہول جاننا چاہتے ہے اور رئیلٹی صرف ایک فلیور میں نہیں ہے بلکہ ڈائیورسٹی ہی ہول اور رئیلٹی ہے اور ہم فطرتی طور پر اس رئیلٹی کو گرفت میں لینا چاہتے ہیں. یہ کام سنگل بیسک ائیڈیا نہیں کر سکتا.

ہیگل کے مطابق ائیڈیا ...ایک بیسک ائیڈیا ....تمام ہول پر اپلائی کر کے رئیلٹی نہیں دے سکتا اور نہ ائیڈیا اس طریقے سے ڈیولیپ ہوتا ہے .
ہیگل کے مطابق باہر سے ائیڈیا (مائنڈ) ، ہول میں غوطہ زن ہو کر رئیلٹی گرفت میں نہیں لیتا بلکہ یہ ہیگلیائی سائنس اپنی رئیلٹی کا ظہور چاہتا ہے ...یعنی ہیگلیائی سائنس کی فطری ضرورت (needs ) ہے اور یہ رئیلٹی کی ظہور اس کی نیڈز ہی ہے جس کا ہیومن (سبجیکٹ) اس ہیگلیائی سائنس کے ساتھ engaged ہوا ہے کیونکہ ہیومن (سبجیکٹ، مائنڈ) اس کا حصہ ہے اور ہیومن سبجیکٹس ( کلچر، تاریخ، مذہب،مادہ ،.... وغیرہ ) خود یہی خواہش رکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں جانکاری (knowing ) ہو جائے ....کہ اشیاء کی اور خود اس کی انڈرسٹنڈنگ (شعور) کی بھی انڈرسٹنڈنگ (خود شعوری) ہو جائے ...

ہیگل نے فی الحال یہ بات سامنے رکھ دی کہ ہول پر ایک ائیڈیا باہر سے اپلائی کر کے تمام ملٹی پلیسٹی کی رئیلٹی معلوم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ائیڈیا باہر سے ہول پر اپلائی ہو کر ہر کنٹنٹ کے اندر گہرائی سے ابجیکٹس کی رئیلٹی دے سکتا ہے بلکہ سبجیکٹ (مائنڈ یا شعور) اور ابجیکٹس (تاریخ، ارٹ ،مذہب، مادہ ....) سب ہیگلیائی سائنس کے اندر ہے اور یہ تمام ابجیکٹس، سبجیکٹ پر اپنی رئیلٹی کا ظہور چاہتی ہے اور خود سبجیکٹ اپنی خود شعوری کا ظہور چاہتی ہے...

ٹوٹلٹی یا ہول کو گرفت میں لینے پر ہیگل کام کر رہا ہے اور اس کو وہ formulism کہہ رہے ہیں ....اس ہول کو وہ فارمولائزنگ کرنا چاہتے ہیں....
اب تک یہ معلوم ہوا کہ بیسک سنگل ائیڈیا ہول پر باہر سے کام نہیں کرسکتا بلکہ ائیڈیا (شعور) یہ ہول کا حصہ ہے ...اب ایبسلوٹ اور ایکسپرینس پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ایکسپرینس کو ایبسلوٹ کے اندر لانا چاہتا ہے.

ایبسلوٹ اور ایکسپیرینس :

ہیگل روایتی ایبسلوٹ کے تصور پر تنقید کرتے ہے ، روایتی ایبسلوٹ یہی ہے کہ مثلا لاء اف ائیڈنٹٹی کہ اے ، اے کے برابر ہے ..یعنی تھنگ وہ ہے جو وہ ہے .... ہیگل اس قسم کی جمودی یا سکونی ایبسلوٹ کا تصور نہیں رکھتا.

اسی طرح ایکسپیرینس کسی شئے کو ڈیٹرمنٹ ، اس کے اندرونی کنٹنٹس کے درمیان تعلق ، دوسرے اشیاء سے مختلف سامنے انا ، ...وغیرہ ہے اور اس ایکسپرینس کو ہیگل ایبسلوٹ سے الگ قبول نہیں کرتا ہے.

ہیگل ایکسپیرینس کو ایبسلوٹ کا جز قرار دیتے ہے کیونکہ ان کے ہاں ایکسپیرینس ہول کا حصہ ہے ...یہ تجربہ ہول یا ایبسلوٹ سے باہر نہیں ہے .
Everything is in the absolute.
اس لیے ہیگل کہتا ہے کہ "تمام گائے بلیک ہے" ...مطلب جس تک بلیک گائے میں فرق مشکل ہے اسی طرح اپ ایکسپیرینس کو ہول یا ایبسلوٹ سے الگ نہیں کر سکتے .... اپ ایکسپیرینس کو ایبسلوٹ سے differentiate نہیں کر سکتے . ہیگل کے مطابق ان دونوں کو الگ کر کے رئیلٹی کو گرفت میں نہیں لیا جا سکتا . کیونکہ رئیلٹی ہول میں ہے اور ہول کے اندر ایک متحرک پراسیس سبجیکٹ (ایکسپیرینس ) اور ابجیکٹ میں چل رہا ہے ...

(نوٹ : غور کیا جائے تو ہیگل فینامینالوجیکلی بتدریج ایک ایک قدم اگے بڑھا رہا ہے.... پہلے کنٹنٹس اور اشیاء کے ملٹی پلیسٹی کا تذکرہ کیا... پھر ایک سنگل ائیڈیا خارج سے ہول پر اپلائی کیا.... اب ایبسلوٹ اور ایکسپیرینس (خارج ائیڈیا یا سبجیکٹ (مائنڈ) کو ہول کے اندر لے ایا..... یہاں ایک طرح سے ہیگل سبجیکٹ، ابجیکٹ دوئی بھی ختم کر رہا ہے )

ہیگل ایبسلوٹ ( فی الحال ایکسپیرینس کے بغیر، خارج) اور ایکسپرینس کو بے معنی ہونے سے بچا رہا ہے کیونکہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ تھگ کرنے سے متحرک پراسیس قائم نہیں ہو پائے گا....اور ایبسلوٹ (ایکسپیرینس خارج یا باہر ہو) کی ایبسٹریکٹ یونیورسلٹی قائم ہو جائے گی جس کے لیے ایکسپرینس (مائنڈ) کو باہر سے غوطے لگانے پڑے گے اور اس ایبسٹریکٹ یونیورسلیٹیز کو گرفت میں لینا مشکل ہو جائے گی ....

اس لیے ہیگل کے مطابق ایکسپیرینس، ایبسلوٹ کا حصہ ہے اور مکمل ہول کے اندر جو متحرک ملٹی پلیسٹی ہو رہی ہے ایکسپیرینس اس کی خود شعوری رکھتی ہے اور اس وجہ سے ہم مظاہرات ہول کے کنکریٹ یونیورسلٹی گرفت میں وقت کے ساتھ لیتے جا رہے ہیں.

یہ یاد رہیں کہ یونیورسل کا نوشن اپنی کنہ میں ایبسٹریکٹ ہی ہوتا ہے لیکن ہیگل نے ایکسپیرینس کو ایبسلوٹ کے اندر لا کر یہ واضح کر دیا کہ اب ہول کے اندر ارتقائی طور پر جو بھی ہوتا رہے گا ایکسپیرینس اس کا حصہ ہے . اور ایکسپرینس (مائنڈ) اس dynamic کیفیت سے واقفیت کی تجسس میں ہی رہے گی...اس وجہ سے ایکسپیرینس کنکریٹ یونیورسلٹیز اپنی گرفت میں لیتی رہے گی... پوری فینامینالوجی اف سپرٹ یہی دوبارا از نو تحقیق ہے کہ ایبسلوٹ کی کنکریٹ یونیورسلٹیز تک رسائی ممکن ہو سکے.

سبجیکٹ ، ابجیکٹ اور گاڈ :

ہیگل نے انتہائی اہم کام یہاں یہ کیا ہے کہ اس نے ابجیکٹ اور سبجیکٹ ملا دیے ہیں.
ہیگل کے مطابق جب ہم کسی ابجیکٹ کو grasp (گرفت)میں لیتے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم اس ابجیکٹ کی ٹروتھ کو لینگویج میں دوسروں کے سامنے express (بیان) بھی کر سکتے ہے . گرفت میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شئے کو جاننا . جب ہم فلاسفی میں لفظ شئے (substance )استعمال کرتے ہے تو مابعدالطبیعاتی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ کوئی شئے جو "موسٹ رئیل " ہو . وہ شئے جو زیادہ بنیادی ہو یعنی دوسرے اشیاء ان موسٹ رئیل پر انحصار کرتے ہو... گرفت میں لینے کا مطلب یہ تھا کہ سبسٹانس کے موسٹ رئیل کو جاننا (یہی ارسطو تصور تھا).
لیکن ہیگل کے مطابق سبسٹانس کو گرفت میں لینے کا مقصد صرف سبسٹانس نہیں ہوتا بلکہ سبجیکٹ بھی مراد ہے ...یہی ہیگل کا انقلابی کام ہے ... ہم (انسان) بیک وقت سبسٹانس (ابجیکٹ) بھی ہے اور سبجیکٹ بھی...جب ہم سبسٹانس کو گرفت میں لیتے ہے تو اس کے موسٹ رئیلٹی کو گرفت میں لیتے ہے اور یہی "موسٹ رئیل " ، dynamic ، ایکٹیو پراسیس ہی ہوتا ہے ، گویا سبسٹانس کا یہ ڈائینامک اور ایکٹیو نس ایسا ہی ہے جیسے ہم (انسان) کا بینگ (سبجیکٹ ،مائنڈ ) کو ہی گرفت میں لیا ہو... یعنی یہ سبسٹانس کا موسٹ رئیل ایسا ہے جیسا کہ ہمارا شعور ( متحرک اور موسٹ رئیل) کو گرفت میں لیا جا چکا ہو. سبسٹانس (ابجیکٹ ) اور سبجیکٹ کی پراسیس اور دونوں کی انوالمینٹ ہی یہ موسٹ رئیل ، ایکٹیو اور متحرک گرفت (knowing ) ممکن بناتی ہے ...پس نوینگ سبسٹانس اصل میں نونیگ سبجیکٹ ہی ہے. اور یہ دونوں جدلیاتی تعلق سے باندھے ہوئے ہیں.
Grasping / expressing = truth development process = substance/ subject

یاد رہیں کہ ہیگل کے مطابق سبسٹانس (ابجیکٹ ) ، یونیورسل ایمیڈیٹلی اف نالج ....اور ....بینگ ایمیڈیسی فار نالج پر مشتمل ہوتا ہے .... یعنی کسی ابجیکٹ (سبسٹانس) کو گرفت میں لینے کے لیے فی الفور حسی اور حسی ادراک (جدلیاتی) یا تفکری اور متحرک پراسیس دونوں اہم ہیں.

یہاں یہ دو الفاظ

" اف" ....اور
"فار"

انتہائی اہم ہیں ...
اف... بینگ ان اٹ سیلف کے لیے ہے (حسی تیقن و فی الفور )
جبکہ
فار....بینگ فار اٹ سیلف ہیں( حسی ادراک ، جدلیاتی )

"اف" کا مطلب یہ ہے کہ ہم جس سبسٹانس کے بارے میں جانتے ہے وہ سبسٹانس جس طرح اپنے اپ کو ہم پر ظاہر کرتے ہے جیسا کہ وہ ہے ، ویسا ہی ہے .

لیکن بینگ یا " فار" ایک گہرا حالت ہے سبسٹانس کے knowing کے لیے..جس میں ہم یونیورسل میڈیم کے طور اس سبسٹانس " اف" کو زیادہ رئیلٹی میں گرفت میں لیتے ہے ...یہی اف اور فار دونوں ایک سبسٹانس کی حقیقت ہے....
گویا ہیگل کے مطابق سبسٹانس ایک جامد شئے نہیں ہے بلکہ ایک طرف اس کا شعور پر فی الفور ظہور ہوتا ہے تو دوسری طرف اس سبسٹانس کے اندر متحرک جدلیات درکار ہے .

اب یہ نکتہ نوٹ کیجئے کہ اگر سبسٹانس صرف جیسا کہ وہ اپنے اپ کو ظاہر کرتا ہے تک محدود نہیں ہے بلکہ "بینگ فار " کا گہرا پراسیس بھی یونیورسل میڈیم کے زریع وابستہ ہے تو پھر تو یہ سبسٹانس صرف از آبجیکٹ یا سبسٹانس کی طرح نہیں ہے بلکہ سبجیکٹ (مائنڈ) کی طرح شئے بھی ہے جس میں شعوری متحرک جدلیات کشمکش رہتا ہے .

ہیگلین گاڈ:

اب اگر ایک آبجیکٹ (سبسٹانس ) ، سبجیکٹ جیسا شئے بھی ہے ...اور تمام آبجیکٹس کو جاننے والا سبجیکٹ (مائنڈ) ہی ہوتا ہے تو پھر ابجیکٹ تو سبجیکٹ سے جدا کوئی شئے نہیں ہے کیونکہ ابجیکٹ میں بھی متحرک اور جدلیاتی کشمکش رہتا ہے اور انسانی شعور کا بھی یہی خاصہ ہے...تو گویا ابجیکٹ ہی سبجیکٹ اور سبجیکٹ ہی ابجیکٹ ہوا.

(نوٹ: مذہب کے رو سے گاڈ ہی موسٹ رئیل ہے اور ہر شئے جانتا ہے اور رئیل سبجیکٹ ہے نہ کہ ڈئوائن سبسٹانس. .. اور گاڈ ہی سول سبجیکٹ ہے...)

تو ہیگل کے مطابق آبجیکٹس کا یہی شعور اور knowing میرے کانشس نس کو ہے اور ارتقائی طور پر ہول یا ایبسلوٹ میرے گرفت میں آ رہا ہے تو اس ایبسلوٹ کا نالج تو گاڈ کو ہوتا ہے اور وہ غیر مادی موسٹ رئیل ہے ... یہی ابجیکٹس کا نالج تو انسانی کانشس نس کو ہے اور بتدریج زیادہ رئیل اور کنکریٹ یونیورسلٹیز کی شکل میں ہو رہی ہے اور کانشس نش غیر مادی ہے ... تو انسانی شعور ہی گاڈ ہے اور انسان کو اپنے شعور پر فوکس کرنا چاہیے یہی کائنات کا خدا ہے...گویا ہیگلین خدا شعور ہے اور ارتقائی طور پر ڈیولیپ ہو رہا ہے .

نوٹ : ڈائیگرام میں یہ مذکورہ بالا گفتگو سٹیپ وائس اسانی کے لیے دکھائی ہے .
6
فلسفہ / ہیگل کا تصور ، ابجیکٹ کی اندرونی خصوصیات
« آخری تحریر منجانب مراد خان بروز دسمبر 25, 2017, 11:41:52 ش »
ہیگل کی تصور ، ابجیکٹ کی اندرونی خصوصیات ، انفرادیت ،تعلق اور شناخت پر :
---------------********-----------******----------

کسی ابجیکٹ کی خصوصیات ( پراپرٹیز ) کو ہم مختلف انداز سے ڈیفرنشیئٹ کرتے ہیں. مثال کے طور پر یہ چاک ہے ، ٹھوس ہے، سفید ہے، سلنڈریکل ہے..... مطلب یہ ہوا کہ یہ چاک بلیک نہیں ہے ، لیکوڈ یا مائع نہیں ہے، چوکور نہیں ہے. وغیرہ
یہ ایک طرح سے ہم نے چاک کو دوسرے ان صفات سے ڈیفرنشیئٹ کیا جو چاک کے صفات کے علاوہ تھے.

اب دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ چاک کے اندر ہی ہم اس کے صفات ڈیفرنشیئٹ کرے ، مثال کے طور پر یہ چاک سفید ہے اور ٹھوس بھی ہے. اسطرح یہ چاک سلنڈریکل بھی ہے ...گویا اب ہم نے چاک کے اندر سے چاک کے صفات کو ایک دوسرے سے ڈیفرنشیئٹ کیا اور الگ الگ دکھا دیے.
ہیگل کے مطابق یہ تمام پراپرٹیز کسی ابجیکٹ میں بیک وقت موجود ہوتے ہیں اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپ کس پراپرٹی سے ابتدا کرو. مثال کے طور پر ہم چاک کی ٹھوس پن یا سفیدی وغیرہ میں کسی بھی ایک پراپرٹی سے ابتدا کر سکتے ہے ، یہ کہ چاک ٹھوس ہے ، سفید بھی ہے ، سلنڈریکل بھی ہے...یا یوں کہہ دے چاک سلنڈریکل ہے، ٹھوس بھی ہے اور سفید بھی ہے..دونوں قسم کے فقرے ، ایک ہی بات ہے اس سے فرق نہیں پڑتا ..بس چاک کے صفات کو اس کے اندرون میں الگ الگ دکھا دیے گئے.
یہی وجہ ہے کہ ہیگل ان دونوں قسم کے فقروں جس نے چاک کی پراپرٹیز اس کے اندرون میں ممیز دکھا دیے ، کہ کسی ابجیکٹ میں یہ تمام پراپرٹیز simultaneously موجود رہتے ہیں ، کہہ کر پکارتے ہیں.

یہ تمام پراپرٹیز ایک دوسرے سے indifferent ہوتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ چاک کا ٹھوس پن اس بات کا خیال نہیں کرتا ہے کہ سفیدی ، سلنڈریکل شیپ وغیرہ بھی ہے ..اسی طرح چاک کے سفیدی کا ، hardness کی ضرورت نہیں ہے کہ چاک میں ہارڈنس بھی ہیں...مختصر تمام ڈیٹرمینٹ پراپرٹیز ایک دوسرے سے ازاد اور indifferent ہوتے ہیں.

چاک کی سفیدی ، ٹھوس پن ...وغیرہ کیا ہیں؟ ...بس وائٹ نس ، وائٹ نس ہی ہے جس کو میں دیکھتا ہو...ٹھوس پن، ٹھوس پن ہی ہے جس کو میں ٹچ کر رہا ہو...ہر پراپرٹی ازاد اور indifferent ہیں. ابجیکٹ یہاں
(چاک) کا ہر ایک خصوصیت سیلف self identical ہی ہے. اور اپنی ایک شناخت رکھتی ہے.
اب ہیگل کے مطابق یہ تمام پراپرٹیز ایک میڈیم میں یونائٹ ہوئے ہیں جو ہمیں ایک ہی ایکسپیرینس دے رہا ہے. مثال کے طور پر چاک کے تمام پراپرٹیز ٹھوس پن، سفیدی ، سلنڈریکل شیپ ، ڈرائی نس ...تمام صفات ایک میڈیم نے اکٹھا کیے ہوئے ہیں اور مجھے " چاک" کا نالج ( ایکسپیرینس ) مل رہا ہے کہ یہ تو چاک ہے ، یعنی کوئی دوسری ابجیکٹ درخت ، پتھر...وغیرہ نہیں ہے.
یہ میڈیم کیا ہے؟
یہ ابسٹریکٹ یونیورسل میڈیم " thinghood " ہے ، جس نے ابجیکٹ کے تمام صفات کو یونائیٹ کیا ہے . اس تھنگ ہوڈ کو "پیور ایسنس" بھی کہا جاتا ہے اور تمام صفات کے plurality کو اکٹھا کیے ہوئے ہیں .اور اس یونیورسل میڈیم نے ایک ڈیٹرمینٹ شئے (مثلا چاک) بنایا ہوا ہے .
یہی تھنگ ہوڈ ہی ہے جو کسی ابجیکٹ کے یونیورسل صفات کو اکٹھا کر کے درخت ، پتھر ، مٹی ، سیب....وغیرہ بنائے ہوئے ہیں .
مختصر کسی ابجیکٹ کے اندر یہ تمام ازادانہ پراپرٹیز ، تھنگ ہوڈ میں جنرلی اکٹھے ہوئے ہیں یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ریلیشنز قائم کیے ہوئے ہیں، جس کا تجربہ ہمیں ملتا ہے .
یہ بات یاد رہیں کہ ہر انفرادی پراپرٹی اپنی ذات میں یونیورسل ہوتی ہے اور بعد میں یہ تمام پراپرٹیز یونیورسل میڈیم میں اکٹھا ہوئے ہے. گویا تمام یونیورسلز ایک یونیورسل " تھنگ ہوڈ" میں جمع ہو چکے ہیں.
ہر یونیورسل پراپرٹی سیلف ریلیٹڈ ہوتی ہے ، یعنی اپنی ساتھ ہی ریلیشن قائم کئے ہوئے ہے کیونکہ یونیورسل پراپرٹی کی الگ تشخص ہوتی ہے لیکن جب تک کم از کم ایک دوسری یونیورسل پراپرٹی سے تعلق میں سامنے نہ ائے تو اس کی الگ پہچان ممکن نہیں ہے...اگر کسی ابجیکٹ میں صرف اور صرف ایک ہی پراپرٹی ہو تو پھر وہ پراپرٹی ضرور بالضرور "تھنگ ہوڈ" سے ریلیشن میں ہے اس وجہ سے اپنی شناخت رکھتی ہے.

یہاں تک تو معلوم ہوا کہ ابجیکٹ کے یہ یونیورسل الگ الگ پراپرٹیز کسی درجے ایک دوسرے کو opposed کرتی ہیں ، اور ان سب پراپرٹیز کی ریلیشنز "تھنگ ہوڈ " میں اسے اکٹھا کر اس opposition کو روکتی ہے اور وہی شئے بناتا ہے جو کہ وہ (ابجیکٹ) ہے .
اب ایک قدم تھنگ ہوڈ سے اگے زرا زیادہ مابعدالطبیعاتی گہرائی میں ہیگل جاتا ہے کہ تھوڑا زیادہ کنکریٹ وحدت میں یہ تمام ڈیفرنشئٹ پراپرٹیز اور تھنگ ہوڈ میں ان کے کنکشز کو دکھا سکے ، اسی اگلے قدم کی وحدت کو وہ oneness کہتے ہے .اب یہی "ون نس" میں تھنگ نس سے تھنگ بن جاتی ہے. اب "ون نس" نے تھنگ ہوڈ کے تمام بکھرے صفات اور کنکشز کو وحدت دی ہے اور تمام دوسرے ابجیکٹس کو خارج کر دیا ہے...مطلب یہ ہوا کہ " ون نس" نے نہ صرف ابجیکٹ کو وحدت دی ہے بلکہ دوسرے خارج ابجیکٹس سے ممیز بھی کر دیا ہے.

مثال کے طور پر چاک کے
" ون نس " ہی ہے جس کی وجہ سے چاک نمک یا چینی نہیں ہے...حتی کہ چاک ، نمک اور چینی تینوں سفید ہیں لیکن چاک کی "ون نس " نے چاک کو نمک و چینی سے منفرد کیا ہے...
چینی اور نمک تو دور کی بات ہے حتی کہ ایک چاک کے ون نس نے چاک کے تمام صفات کو وحدت دی ہے اور اسی طرح دوسرے same چاک کی ون نس سے اسے ممیز کیا ہوا ہے اور ہر ہر چاک الگ تھلگ اپنے یونیورسل صفات کے ساتھ ون نس میں منفرد نظر اتا ہے.
مختصر
" Oneness relating to itself & exclude others ".
اب یہاں ہیگل نے ایک تھنگ یا بینگ کو ون نس میں متحد کیا کہ تھنگ یا بینگ وہ ہے جو ون نس میں اپنے تمام یونیورسل صفات سے متحد ہے اور دوسرے تھنگز یا بینگز سے ممیز موجود ہے.
اب یہ بات نوٹ کریں کہ صرف نیگیشن ایک ابجیکٹ کے اندر ان کے اپنی مختلف پراپرٹیز میں لاگو نہیں ہو رہی ہے ، کہ مثال کے طور پر چاک کی سفیدی کی نفی ہو کر ٹھوس پن کو ہم مختلف الگ تھلگ پراپرٹی کے طور پر دکھاتے ہے..یا ٹھوس پن کی نفی کر کے چاک کی سلنڈریکل شیپ الگ تھگ دکھاتے ہیں...
بلکہ اوپر ون نس کی لیول پر بھی نیگشن لاگو کر کے ایک ابجیکٹ کی نفی کر کے دوسرے ابجیکٹ کو ممیز دکھاتے ہیں... مثلا ایک ابجیکٹ (چاک) کی ون نس کی نفی کر کے دوسرے ابجیکٹ ( چاک) کی ون نس الگ تھلگ دکھاتے ہیں .
یاد رہیں
* ایک نیگشن ابجیکٹ کے اندرونی پراپرٹیز کو ممیز کرنے کے لیے
* ایک نیگشن ایک ابجیکٹ کو دوسرے ابجیکٹ سے ممیز کر نے کے لیے

یہی وجہ ہے کہ چاک کی سفیدی دوسری چاک کی یا نمک کی یا چینی کی سفیدی نہیں ہوتی..ہر ہر سفیدی اپنی ہی ون نس میں اپنی ہی دوسرے یونیورسل صفات کے ساتھ وحدت میں موجود ہوتی ہے . اور اس ون نس میں تھنگ ان اٹ سیلف ہوتا ہے اور دوسرے ابجیکٹس کی نفی کر کے اپنے اپ کو ممیز دکھاتا ہے. اب اس ون نس میں ہمارے پاس "تھنگ نس "یا "تھنگ کی طرح " آبجیکٹ نہیں ہوتا بلکہ رئیل ابجیکٹ یا تھنگ ہی ہوتا ہے..مثال کے طور پر اب ابجیکٹ چاک ہی ہمارے پاس ون نس میں ہوتا ہے نہ کہ چاک نس یا چاک کی طرح کوئی ابجیکٹ ہوتا ہے. اس لیے تو ون نس میں نفی کر کے دوسرے ابجیکٹس سے ایک خاص ابجیکٹ کو ممیز کر کے رئیل ابجیکٹ ہی ہمارے سامنے اتا ہے .اس ون نس کو ہم نیگیٹو یونٹی بھی کہتے ہے کیونکہ یہ دوسرے ابجیکٹس کی نفی کر کے ون نس میں ابجیکٹ کو ممیز کرتا ہے .

یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ ایک ابجیکٹ کا تھنگ ہوڈ نے جن پراپرٹیز کی ریلیشنز قائم کی ہوتی ہے یہی تھنگ ہوڈ دوسرے ابجیکٹ کے تھنگ ہوڈ کے پراپرٹیز کی ریلیشنز سے اپنی پراپرٹیز کو ممیز بھی رکھے ہوئے ہے. مثال کے طور پر ایک چاک کے تھنگ ہوڈ نے چاک کی اندرونی پراپرٹیز سفیدی ، ڈرائی نس ، ٹھوس پن... وغیرہ کو دوسرے چاک کے اندرونی تھنگ ہوڈ میں پراپرٹیز سفیدی، ڈرائی نس اور ٹھوس پن...وغیرہ سے ممیز بھی کیا ہوا ہے . اس وجہ سے دو ایک جیسے چاک اپنے اپنے اندرونی پراپرٹیز کے ساتھ ممیز ہوا ہے.

ڈائیگرام میں ایک ابجیکٹ کے مختلف سنچوئس یونیورسل پراپرٹیز دکھائے گئے ہیں... یہ سب پراپرٹیز الگ الگ اپنی شناخت رکھتے ہیں.... بعد میں یونیورسل تھنگ ہوڈ سے ریلیشن قائم کر کے یونائٹ ہوئے ہیں... اخر میں ایک ہی یونیورسل ون نس میں زیادہ کنکریٹ فارم میں دوسرے ابجیکٹس سے ممیز بن چکا ہے.
7
پنجابی نثر / پنجابی زبان تے اخلاقیات از طاہرہ سرا
« آخری تحریر منجانب شہزاد عامر بروز دسمبر 21, 2017, 06:09:31 ش »
رلڈ پنجابی کانفرنس دے آہریاں ولوں”پنجابی زبان تے اخلاقیات” تے گل کرن دا ٹیچا ملیا تےمیں سوچن لگ پئی کہ لفظ اخلاقیات دی پنجابی کیہ ہووے گی؟ پر مینوں تھوہ نا لگا جیہدے توں پتہ لگدا اے کہ ایہ لفظ ساڈی زبان تے کلچر دا حصہ ای نہیں کیوں جے انج دے لفظ اوس زبان تے کلچر وچ ای پروان چڑھدے نیں جتھےانج دے مسئلے ھون جتھے بداخلاقیاں ہون گیاں اوتھے ای خوش اخلاقیاں دی لوڑ پوے گی نا۔
میں اک پنجابن ہون وجھوں آکھدی آں کہ بنجر تے تھڑیاں تہذیباں دے ایہ مسئلے ہون گے ساڈے چ تے نند وچار ای کوئی نہیں۔
کسےوی بولی دی اخلاقیات(قدراں) جانچن لئی سانوں اوتھوں دے مڈھلے وسیب نوں ویکھنا پوےگا, کہیا جاندا اے کہ انسانی وسیب دا پندھ واہی بیجی توں شروع ہویا, ایہ واہی بیجی سی جیہنے انسان نوں جنگل چوں کڈھ کے وستیاں چ لے آندا, جنگل دا جرندا تے شکاری دریاواں کنڈھے وستیاں بنا کے رہن لگ پیا تےجیون دا پہیہ زمینی پیداوار تے رڑھن لگ پیاتے جیہڑے علاقیاں چ زمین اینی زرخیز نہیں سی اوہ شکاری ہی رہے, انج انسان دے مڈھلے وسیب نوں دو حصیاں وچ ونڈیا جا ندا اے
واہی بیجی والا وسیب
شکاری وسیب
واہی بیجی دا ناں لیندیاں سار ای ہری بھری زندگی دا نقشہ ساڈے ساہمنے آ جاندا اے جد کہ دوجے پاسے شکاری وسیب دا منظر اک غیر طبعی تے خونی موت توں سوا کیہ اے؟
پنچاب دی گل کرئیے تے اکھاں اگے خوشحالی دا نرما کھڑ پیندا اے تےاسیں پونے کاٹھے گنیاں دی مٹھاس محسوس کرن لگ پیندے آں,اچیاں لمیاں ٹاہلیاں تے پینگھاں جھوٹ دیاں مٹیاراں اتے وڈے وڈے بوڑھ, پیپل ایہدے موسماں دی جان نیں ۔
لڑائی بداخلاقی تےتنگ نظری دی سب توں وڈی وجہ بھکھ ہندی اے جو کہ پنجاب وچ نہیں سی, ایہو وجہ اے کہ ایتھوں دے واسی کھلے دل دے تے اک دوجے نال رل کے کم کرن دے عادی سن, کڑیاں ترنجن تے پنڈھار بہندیاں سن تے گبھرو ونگار نال واہی بیجی چ اک دوجے دی مدد کردے سی, زنانیاں مرداں دے موڈھے نال موڈھا جوڑ کے کھیتاں وچ کم کردیاں سن, نکے موٹے فیصلےپرہے پنچائیت وچ ہندے سن تے مقامی ریاستی ڈھانچہ نا ہون دے برابر سی, دب کے واھن تے رج کے کھان والے خوشحال تے آذادی پسند جنت واسیاں نوں حکمران دی لوڑ ای نہیں سی ہندی۔
ہڑپہ دی تہذیب اج وی اپنیاں قدراں تے جنگے جیون پاروں دنیا تے اپنی مثال آپ اے,ثابت ہویا کہ کسے وی وسیب دی اخلاقیات دا تعلق اوتھوں دی معیشت نال جڑیا ہندا اے, جتھے جنی بھکھ ہووے اوتھے اوہنی بد اخلاقی تے بدامنی ہووے گی, تاریخ گواہ اے کہ جنے حملے پنجاب تے ہوئے نیں شاید ای زمین دے کسے خطے تے ہوئے ہوون تے ایہدی وجہ ایتھوں دی زرخیزی تے خوشحالی توں سوا ہور کجھ نہیں سی, دوجے پاسے پنجاب نے کدی وی کسے ملک تے حملہ نہیں کیتا, لوڑ ای کیہ سی؟ سگوں ساڈیاں قدراں نوں ساڈے خلاف جنگی چالاں وجھوں ورتیا گیا تے ساڈے پورس منہ بولیاں بہناں دے صدقے سکندراں دی جان بخشی کردے رہے۔
ساڈی بدقسمتی اے کہ پنجابی زبان نوں کسے وی دور چ سرکاری سرپرستی نہیں ملی, ایتھوں تیک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ دے دور وچ وی سرکاری زبان پنجابی نہیں سی, ایہدی سدھی سدھی وجہ ایس دھرتی تے لگاتار دھاڑویاں دا نزول سی, جیہڑا وی حملہ آور آیا اوہ پنجابیاں تے اپنی بولی تے اخلاقیات مسلط کردا رہیا۔
پنجاب نوں کنٹرول کرن واسطے انگریز سرکار نے اک سوچی سمجھی سازش دے تحت پنجابی زبان وچ پڑھائی لکھائی تے پابندی لا دتی تے پنجابی قاعدہ غیرسرکاری اسلحے وانگوں نا صرف بحقِ سرکار ضبط کرلیا گیا سگوں عام آدمی نوں قاعدہ جمع کروان تے انعام وی دتا گیا۔
پنجابیاں دی ماں بولی تے پابندی لگ گئی تے آپ,جناب,سرکار والے سرکاری ٹٹو ساڈے سلیبس تے قبضہ کر بیٹھے تے پنجابی نوں انپڑھ تے جاہلاں دی زبان آکھن لگ پئے,ہندی اردو فیچر فلماں وچ پنجابی کریکٹر نوں انپڑھ, جاہل یا مخولیا وکھا کے پنجابی دی کردار کشی شروع ہو گئی۔
علم,ادب,زبان تے فلسفے دی گل کرئیے تے دنیا دی سب توں پہلی کتاب ایتھے ای لکھی گئی اے, پنجابی مہاویر دے فلسفہء عدم تشدد توں لے کے بلھے شاہ دی ایکتا تے رواداری نال نکو نک اوس خزانے دے وارث نیں جیہدی لوڑ ہر دور دے انسان نوں رہی اے تے ہمیشہ رہوے گی۔
اجہے کل دی گل اے کہ United Nation دے جنرل سیکرٹری بانکی مون نے ادارے دے ورھے وار اکٹھ وچ آکھیا کہ دنیا دے امن واسطے بلھے شاہ ورگے سوجھواناں نوں پڑھن پڑھاؤن تے سمجھن دی لوڑ اے جیہدا سدھا سدھا مطلب ایہ نہیں نکلدا کہ دنیا نوں ایس ویلے پنجابی اخلاقیات دی لوڑ اے؟
بلھا وارث فرید پڑھاؤ,, دھماکیاں توں جان چھٹ جائے۔
8
فلسفہ / ہیگل کا تصور ارتقائی شعور اور ابجیکٹ کی حقیقت
« آخری تحریر منجانب مراد خان بروز دسمبر 20, 2017, 01:48:57 ش »
ہیگل کا تصور ارتقائی شعور اور ابجیکٹ کی حقیقت :

ہیگل کے مطابق شعور حقیقی (رئیل) ہے اور خارج بھی حقیقی ہے . خارج ہمارے شعور سے باہر تمام ابجیکٹس یا مظہر ہیں جس کا مشاہدہ اور تجربہ شعور کو ہوتا ہے . شعور خارج ابجیکٹ کو جانتا ہے .

جاننے کا مطلب کیا ہے ؟
یاد رہیں ہیگل کا ابجیکٹ اندرونی دنیا ہے ، جس کو شعور گرفت میں لینے کے لیے حسی تیقن ، ادراک اور انڈرسٹنڈنگ کو بروئے کار لاتا ہے . ہیگل کے ابجیکٹ میں حس تیقن ( sense certainty ) پارٹیکولرز خصوصیات کا فورا ظہور شعور پر کرتا ہے .اس کے بعد حسی ادراک ( perceptions ) ابتدائی مرحلے میں نفی کا مقولہ اپلائی کر کے یونیورسل صفات سامنے لاتا ہے .
حسی تیقن اور حسی ادراک سے ابجیکٹ کے ملنے والے صفات چونکہ ایک دوسرے کے ساتھ میکس رہتے ہیں اور یونیورسل صفات ، پارٹیکولرز صفات سے ازاد نہیں ہوتے ، اس لیے ہیگل ابجیکٹ کے ان یونیورسل صفات کو sensuous universality کا نام دیتا ہے ... وجہ یہ ہے کہ یہ یونیورسل صفات ، حس پر فی الحال انحصار کرتے ہیں گویا حس کی کنڈیشن یا شرط ان یونیورسل صفات کا اہم جز ہے ، اور یہ یونیورسل صفات حس کے پارٹیکولرز صفات سے مکمل ازاد نہیں ہیں .
اب اگلا مرحلہ انڈرسٹنڈنگ کا اتا ہے کیونکہ یہ اگاہی جب انڈرسٹنڈنگ کو ہو جاتی ہے کہ یونیورسل صفات ازاد نہیں ہے تو ابجیکٹ کے یونیورسل صفات کو
Unconditional universality
صفات بنانا انڈرسٹنڈنگ کا کام ہوتا ہے . اب جب انڈرسٹنڈنگ یونیورسل صفات کو مکمل حس ( مادی صفات ،پارٹیکولرز صفات) سے ازاد کرتا ہے تو یہ خالص یونیورسل صفات بن جاتے ہیں . ہیگل کے مطابق کسی ابجیکٹ کی حقیقی سچائی (ٹرو نالج) اس کے یونیورسل صفات میں موجود رہتا ہے گویا ان خالص یونیورسل صفات کا علم ہی ابجیکٹ کی ٹرو حقیقت ہے ، اس لیے ہیگل ابجیکٹ کی ان خالص یونیورسل صفات کو سامنے لانا چاہتا ہے اور شعور ان خالص یونیورسل صفات کو گرفت میں لینے کی متلاشی رہتا ہے.
ہیگل کے مطابق ابجیکٹ کے یہ یونیورسل صفات بذات خود ایک الگ دنیا ہے . اور یہ خالص یونیورسل صفات ، حسی امیزش سے ازاد ہوتے ہیں. یہ بات یاد رہیں کہ ہیگل کے مطابق ازاد سے مطلب اپنے اپ کو ممیز رکھنا ہے نہ کہ کھلی ازادی...
یونیورسل صفات کا وہ دنیا (ورلڈ) جس کو انڈرسٹنڈنگ گرفت میں لیتا ہے ، ان یونیورسل صفات کا ظہور appearance کہلاتا ہے جبکہ اس اپیرنس سے اگے (beyond ) ابجیکٹ کے خالص یونیورسل صفات کی دنیا کو ہیگل inner world of being کہتے ہیں... یہ انر ورلڈ فورسز اور لاز کے زریعے appearance ورلڈ سے پرویا ہوا ہے . ابجیکٹ کے اندر شعور کی رسائی اپیرنس یا انر ورلڈ اف بینگ کو انڈرسٹنڈنگ اپنی گرفت میں لیتی ہے البتہ ان کنڈیشنل یونیورسل صفات ، فورسز و لاز ، انر ورلڈ اف بینگ سب مابعد الطبعیاتی بحث ہے .

(نوٹ : انڈرسٹنڈنگ کے پوسٹ میں اس انر ورلڈ اف ابجیکٹ پر تفصیلی گفتگو کرینگے ، ہیگل اس گفتگو کے لیے مابعدالطبیعات کا لفظ استعمال نہیں کرتا البتہ حسی تیقن و ادراک کے سینچئوس یونیورسلٹی کے بعد انڈرسٹنڈنگ سے ازاد یونیورسلٹی صفات کی اور اگے کی بحث مابعدالطبیعاتی ہی ہے. )

ضمنا سوال:

ہیگل کے مطابق ایک اوبجیکٹ حقیقت میں موجود ہے۔۔ اس کے لیے کیا دلیل ہے؟

ہیگل سے پہلے ہم ابجیکٹ کو از اے ہول تصور کرتے تھے ... مثلا ایک درخت ، ریڈ بال وغیرہ کو میں senses سے وصول کر رہا ہو.... یا ابجیکٹ کو ان کی پرائمری اور سیکنڈری صفات میں تقسیم کرتے تھے ... پرائمری صفات حسی اور سیکنڈری صفات عقل سے گرفت میں لیتے ہیں ....

اب اگر غور کیا جائے تو ابجیکٹ کو ایک مکمل ہول یا جامد شئے مانتے تھے اور اس ابجیکٹ کو حس سے گرفت میں لینا ایک قسم static طریقہ تھا...
کانٹ نے تو یہ کہہ دیا ابجیکٹ فی النفسہ گرفت میں نہیں لیا جا سکتا ...

یہی سب فلاسفرز کے افکار ہیگل کے سامنے تھے ...

اب ہیگل پر غور کیا جائے تو انہوں نے ابجیکٹ کو پرائمری و سیکنڈری صفات میں تقسیم نہیں کیا ... نہ ہی اس ابجیکٹ کو گرفت میں لینے کے لیے senses سے اغاز کیا... نہ ابجیکٹ کو گرفت میں لینے کو static عمل قرار دیا ہے کہ بس میں نے ریڈ بال دیکھ لیا اور یہ بال ہے..گول ہے ...اور ریڈ ہے ...
کیونکہ اس طریقے سے وہ اوپر ذکر شدہ دوئی پیدا ہو رہی تھی.

ہیگل نے ابجیکٹ اور شعور کے درمیان اغاز senses کی بجائے sense certainty سے کیا اور اس عمل یعنی ابجیکٹ کے صفات کا ریفلیکشن شعور پر ایک مسلسل " پراسیس " قرار دیا ....

اب ظاہری بات ہے جب ابجیکٹ کے باہر صفات یعنی حسی شعور پر فورا عکس بناتا ہے تو شعور ان صفات کے مطابق ہی اپنے اندر عکس بناتا ہے.... پھر ادراک ابجیکٹ کے اندر صفات نکلاتا ہیں تو شعور پر بھی وہی عکس پیدا ہوتا ہے....
گویا شعور اور ابجیکٹ کے درمیان back & forth پراسیس ہیگل نے شروع کیا...
اور اس پراسیس کی دلیل پر ہیگل نے کہا کہ باہر ابجیکٹ رئیل ہے ..اگر ابجیکٹ رئیل اور حقیقت میں نہ ہوتا تو شعور کے ساتھ یہ پراسیس ہی ناممکن ہوتا ..کیونکہ یہ جدلیاتی پراسیس کے لیے دو پولز "شعور و ابجیکٹ" ضروری ہے...اگر ابجیکٹ نہ ہو حقیقت میں..تو حسی تیقن کا شعور پر فی الفور ابجیکٹ کے صفات کا ظہور ممکن ہی نہیں ہے.... ادراک ، انڈرسٹنڈنگ ...نے مزید ابجیکٹ کی رئیلٹی کا حتمی ثبوت دیا.... کہ یقینا یہ پراسیس شعور و ابجیکٹ میں جاری ہے... چونکہ ابجیکٹ اور شعور اس پراسیس کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو دونوں ہی حقیقت میں موجود ہیں.

اب تک کی گفتگو سے یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ابجیکٹ ہیگل کے مطابق ایک بیرون و اندرونی ورلڈ ہے ... شعور اور ابجیکٹ ایک " جدلیاتی پراسیس " کے تحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں.

ارتقائی شعور :
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ شعور ا بجیکٹ کو جانتا ہے . البتہ شعور ابجیکٹ کو " از اے ہول " جانتا ہے .مطلب یہ ہے کہ شعور کو یہ معلوم ہے کہ ابجیکٹ حقیقی طور پر خارج میں موجود ہے اور ابجیکٹ کے حسی صفات ( ٹھوس پن ، زائقہ .... وغیرہ) ، اسی طرح یونیورسل صفات جانتا ہے ...
جب ابجیکٹ کا حسی صفات اور یونیورسل صفات شعور کے سامنے آ جاتے ہے تو یہی " نالج یا تجربہ " اب شعور کا ابجیکٹ (تھیوریٹکل ) بن جاتا ہے....
خارج ابجیکٹ کو ہم ابجیکٹ فار سیلف کہتے ہے ... جبکہ اس خارج ابجیکٹ کے نالج کو " ابجیکٹ فار کانشس نس" کہتے ہے .

اب بات نوٹ کرنی کی ہے ، جب ہم نے پہلے کسی ابجیکٹ ( جس کی نالج ہمیں ملی ہے ) ، کی طرح کوئی دوسرا same ابجیکٹ یعنی other real object خارج میں دیکھ لیتے ہے اور اس ابجیکٹ کی نالج یا تجربہ ہم پر واضح ہو جاتی ہے جو کہ پہلے ابجیکٹ کی نالج یا تجربہ سے زیادہ درست اور حقیقی ہو تو ہم پہلے ابجیکٹ کی نالج میں سقم یا کمی پر حیران رہ جاتے ہے کہ یہ کیا ہوا ؟ اصل نالج تو اس ابجیکٹ کے بارے میں یہی تھا یہ پہلا نالج تو درست نہیں تھا ... ابجیکٹ کے نالج یا حقیقت (ٹرو نالج ) کا یہ سلسلہ تاریخ سے چلا آ رہا ہے ، اس وجہ سے ہیگل ابجیکٹ کے تجربے کو محض" تجربہ " نہیں بلکہ
Course of experience
کہتے ہیں. ہیگل کے مطابق یہی کورس اف ایکسپیرینس "سائنس" ہے . گویا ہر زمانے میں ہم اشیاء کے بارے میں سیکھ رہے ہیں ، یہی کورس اف ایکسپیرنس ہے ، یہی ارتقاء علم یا سائنس ہے .
یہی خارج کی ابجیکٹس جس کو بار بار ہم کانشس نس سے گرفت میں لیتے رہتے ہیں اور ان کے نالج کے ارتقاء سے ایک تسلسل سے گزر رہے ہیں ، یہی "کورس اف ایکسپیرنس " ہے .

اب بالفرض اج ایک ابجیکٹ کے بارے میں ہمارا ایک تجربہ بن جاتا ہے کہ یہی اس ابجیکٹ کی حقیقت ہے تو کل جب اس ابجیکٹ کے بارے میں ہمارا تجربہ تبدیل ہو جاتا ہے کہ ابجیکٹ کی اصل حقیقی تجربہ کل والا نہیں بلکہ یہ دوسرا اج والا درست ہے تو مطلب یہ ہوا کہ کانشس نس کو اپنی کل کے تجربے کی اگاہی ہو گئی ہے کہ وہ درست تجربہ نہیں تھا ، اب "موجودہ کانشس نس" نے اپنی گرفت میں کل کا ابجیکٹ ، اس کا تجربہ ، اور اج وہی same ابجیکٹ اور اس کا نیا تجربہ گرفت میں لے لیا ...گویا کانشس نس ایک قدم اگے بڑھ گیا ہے . یہی کانشس نس کی گروتھ ہے . اسی طریقے سے ایک ابجیکٹ کے متعلق ہر زمانے میں کانشس نس نالج لیتا رہتا ہے اور اگے ارتقاء کرتا رہتا ہے لیکن تاریخ کے ابجیکٹ اور ان کے ہر دور کے مختلف تجربے کو زمانہ موجود کا کانشس نس اپنی بطن میں جگہ دے کر اگے بڑھتا رہتا ہے ، یہی سائنٹیفک ارتقاء یا گروتھ ہے .
مختصر ابجیکٹ کا تجربہ ٹو تجربہ صرف گروتھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ شعور بھی ہر قدم اگے گروتھ کر رہا ہے .
یہ شعور کا گروتھ یا ارتقاء ہم صرف ابجیکٹ کے بارے میں اپنی نالج اور تجربے کی تغیر سے لگاتے رہتے ہے کہ شعور ارتقائی سفر پر ہے اور شعور کا ہر پچھلا تجربہ نئے ارتقائی شعور اور اس کے تجربے میں ضم ہوتا رہتا ہے .
ہیگل پچھلے شعور سے اگلے شعور پر انے کے پراسیس کو جدلیاتی زبان میں determinate negation کہتا ہے ، کہ پچھلے شعور کی نفی ہو کر شعور اگلے سٹیج میں داخل ہو چکا ہے ....

یہی ہیگل کا پراسیس اف Aufhebung ہے یعنی negate & preserve
یعنی کسی شئے کو اس طرح نیگیٹ کیا جائے کہ وہ نتھنگ نہ بنے بلکہ نفی ہو کر محفوظ بھی رہے....
یہاں پچھلا کانشس نس اس طرح نیگیٹ ہو رہا ہے کہ ہر نئے دور کے ترقیافتە کانشس نس میں ضم ہو جاتا ہے اور اپنے اپ کو محفوظ رکھتا ہے . یہی بے قرار کانشس نس ہے کہ کورس اف ایکسپیرنس کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذید ہوتا رہتا ہے .
غور کیا جائے تو ابجیکٹ کی ایسنس ہر نئے کانشس نس کے لیے پچھلے کانشس نس کے مقابلے میں متغیر رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانشس نس تاریخی طور پر ایک sequence سے گزر رہا ہے اور ابجیکٹ کانشس نس پر نئے ڈومین کا ظہور کرتا رہتا ہے ....

اہم نکتہ یہ یاد رہیں کہ کانشس نس ہر سابقہ مراحل کو اپنی ذات میں ضم کرتا جاتا ہے اور یہی ابجیکٹ کا پچھلا تجربہ ، پھر نیا تجربہ سب کے سب مکمل پراسیس ہے اور یہ پراسیس نئے مرحلے پر ایڈوانس کانشس نس کے لیے ایک "ابجیکٹ " بن جاتا ہے جس پر کانشس نس متجسس رہتا ہے .
اب ہیگل ایک ابجیکٹ اور اس کا تجربہ ....پھر اگلے مرحلے میں یہی same ابجیکٹ اور اس کا ایڈوانس تجربہ.... پھر اس سے اگلے مرحلے میں یہی ابجیکٹ اور اس کا مزید ایڈوانس تجربہ..... اینڈ so on
اس عمل کو ہیگل way of science کہتے ہیں . اور کانشس نس ہر وقت سائنس مشاہدہ کر رہا ہے .

یعنی ہر وقت کانشس نس سائنٹیفک پراسیس ہی ہے اور ڈیولیپ ہو رہا ہے .
اب سوال یہ ہے کہ اس کانشس نس کی ڈیولیپ منٹ کا End point کیا ہے ؟
ہیگل کے مطابق کانشس نس تاریخی طور پر مختلف اوقات ، زمانوں اور مقامات پر کائنات میں رہ کر اپنے اپ کو ڈیولیپ کر رہا ہے . کانشس نس اپنی سیلف کی یہی ایکسپیرنس notion ( کانسپٹس) سے گرفت میں لے رہا ہے . یہ ڈیولیپڈ کانشس نس کوئی سنگل سبجیکٹ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل کائنات کے ساتھ ٹوٹلیٹی میں جکڑا ہوا ہے ....گویا یہ اعلی ڈیولیپڈ کانشس نس "مکمل سسٹم اف کانشس نسز " کی ارتقائی سفر سے وجود میں ائے گا . اور اخر میں یہ ڈیولیپ کانشس نس تمام اشیاء کو کنکریٹ نالج کے طور پر گرفت میں لے گا... یعنی اشیاء کے اندر کے نالج سے ایبسٹرکٹ نس ختم ہوتا جائے گا اور کانشس نس کے پاس ٹوٹلٹی یا از اے ہول کنکریٹ نالج ہوگی .
اس فائنل سٹیج پر شعور خارج (ابجیکٹس ، مظہر) کی ٹرو ایسنس کو گرفت میں لے گا ...گویا شعور کو اپنی حقیقی ایسنس کا نالج مکمل ہو جائے گا اور اس مقام پر سبجیکٹ، ابجیکٹ کا ایک ہی وحدت ہو جائے گی...گویا باہر ابجیکٹس، مکمل طور پر سبجیکٹ (شعور ) کی حقیقی ایسنس بن جائے گی .
9
اضطرابِ فکر اسلامی / اِنسانیئت جا عروج و زوال
« آخری تحریر منجانب عِرفان مہر مہر بروز دسمبر 20, 2017, 12:50:55 ش »
مذاکرہ
‎بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
انسانیئت کا عروج و زوال
قِسط نمبر ۳
انسانیت کی انفرادی اصلاح مقصود ھو کہ اجتماعی اس کا محور بہرحال انسانی نیئتِ قلب ھے۔ جس طرح فکر، سوچ اور خیالات ذہنِ انسانی کا عمل ہے، جس طرح ذہن میں پیدا ھونے والے خیالات کا الفاظ میں اِظہار انسان کی زبان اور دو ھونٹوں کا عمل ہے، بعینہِ نیئت اور احساس قلبِ انسانی کا خاص الخاص عمل ہے۔

جب ہمارے احساس اور نیئتِ قلب پر ہماری فکر اور سوچ ہاوی ھو جاۓ تو ھمارے خیالات، الفاظ اور اعمال کا دارومدار خلوصِ نیئت پر ممکن ہی نہیں رہتا- قطعہ نظر کہ ہمارے خیالات، الفاظ اور اعمال اچھے ہیں یا بُرے اُنکا مبنی بر خلوصِ نیئت ھونا ہرگز ممکن نہیں رہتا۔ کیونکہ احساس اور نیئت کا خالص ھونا انسانی فکر اور سوچ کے تمام تر متعصب اثرات سے پاک ھونے نام ہے۔ اور انسانی فکر و سوچ اُتنی دیر غیر متعصب ھو ہی نہیں سکتی جب تک ہمارا احساس اور نیئت مبنی بر خلوص نہ ھو۔

اہلِ مغرب اپنی تہذیب اور معاشرے میں بے شمار خوبیوں اور اچھائیوں کے باوجود نہ صرف آج متعصبانہ فکر اور سوچ کا شکار ہیں بلکہ وہ اسی متعصبانہ نیئت قلب کو پوری ایمانداری سے اپنا قومی حق اور انصاف کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ وہ اب خلوصِ نیئت کی تعریف سے ہی نا آشنا ھو چکے ہیں۔

یہی وہ صورتِ اعمال ہے جہاں معاشرے کے اجتماعی احساسات اور نیئت معاشرے کی اجتماعی فکر اور سوچ کے اس قدر تابع ھو جاتی ہے کہ نیئتِ قلب کی اپنی اِنفرادی کوئ اہمیئت ہی نہیں رہتی۔ بلکہ نیئت قلب محض چند خیالی، رسمی اور مذہبی جملوں کا مجموعہ بن کر اپنی طاقت ہی سے دستبردار ھو جاتی ہے۔ معاشرے میں مذہب کی یہ افیون جہاں اِک طرف قلبِ انسانی میں رکھی گئ اُس طاقت ہی کو موت کی نیند سُلادیتی ہے جس سے معاشرے کی اصلاح اور افلاح کا کام لیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف معاشرے کی خود غرض اور متعصبانہ فکر، سوچ اور خیالات کو مصلحت پرستی اور موقع شناسی کی وہ آزادی مہیا کرتی ہے جو نیئتِ قلب کی آزادی اور خلوص کیلیئے موت کا پیغام ہے۔
آج ہمارے معاشرے مکمل طور پر مذہب اور تہذیب کے نشے میں دھت عقل کے گھوڑے پر سوار ہیں۔ نیئتِ قلبی پوری طرح عقلی مصلحتوں اور موقع شناسی کے حق میں دستبردار ھو چکی ہے۔
یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
10
اضطرابِ فکر اسلامی / جواب: انسانیئت جا عروج و زوال قسط نمبر ۲
« آخری تحریر منجانب عِرفان مہر مہر بروز دسمبر 20, 2017, 10:39:45 ص »
بیشک ھماری نیئت سے ھمارے علاوہ صرف الله ہی ہمارا رازدان ہوتا ہے۔ ھمارے اعمال چونکہ ھماری نیئت کا ہی نتیجہ ھوتے ہیں لہٰذا ہماری عادات ہماری نیئت کی غمازی ضرور کرتی ہیں۔ مگر الله سے ھمارا رشتہ اور تعلق اسی نیئت کی بنا پر استوار ھوتا ہے۔ ھماری نیئت کا خلوص ہی الله کی پہچان کا باعث بنتا ہے۔ یہی خلوصِ نیئت قرآن کا مکالمہ ہے۔ کیا تقویٰ ہماری نیئت کے اسی خلوص کی طرف اشارہ نہیں؟؟؟
صفحات: [1] 2 3 ... 10