مُذاکرہ

مہمان


تحاریر دکھائیں

This section allows you to view all posts made by this member. Note that you can only see posts made in areas you currently have access to.


Messages - sohail

صفحات: [1] 2
1
جو گفتگو آپ اوئے سے شروع کریں وہ بالاآخر آپ ہی کے گریبان تک آتی ہے۔

طلال چوہدری تم کسی تھیٹر کے بھانڈ نہیں ایک سیاسی جماعت کے کارکن ہو۔ مخالفین پہ تنقید ضرور کرو وہ تمہارا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر۔
ایک وقت تھا جب نون لیگ کی ترجمانی پرویز رشید کے پاس تھی۔ شائستہ لہجے اور دھیمی آواز میں گفتگو کرنے والا نفیس سیاسی کارکن جسے اپنی نظریاتی وابستگیوں اور وفاداریوں کی بہت سخت قیمت چکانا پڑی تھی۔ مخالفین پہ تنقید بھی کرتا تھا، کھبی کبھار جگتیں بھی کس جاتا تھا لیکن شاید ہی کبھی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے جانے دیا ہو۔ چونکہ مد مقابل جو سیاسی ہستی تھی وہ خود عمران خان کی تھی جسے کسی اور کی ترجمانی کی ضرورت ہی نہ تھی سو اس جانب سے جو تیر لگاتار برستے تھے ان کا جواب نواز شریف کی طرف سے تو آتا نہیں تھا جس نے اپنی پچھلی سیاسی غلطیوں ، اپنی عمر کے تجربے اور اپنے مرتبے کا پاس کرنا سیکھ لیا تھا۔ سو خان صاحب کے تیروں کا اکثر مدھم سروں اور شستہ لہجے میں جواب پرویز رشید ہی کی جانب سے آتا تھا۔ چونکہ خان صاحب تو مسندِ خدائی پہ فائز تھے سو ان پہ تنقید کی کوئی جرات کرے تو کیونکر کرے اسلیئے ہم نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو پرویز رشید کو گالیاں ہی دیتے دیکھے اور کبھی یہ نہیں دیکھا کہ اس شخص کے اخلاق کی کوئی جھوٹے مونہہ بھی تعریف کی ہو۔ وقت گزرتا گیا ، خان صاحب کے ترکشِ دہن سے تیروں کی برآمد دن بہ دن بڑھتی گئی اور اس جانب یہ شستہ لہجے میں بات کرنے والا بھی قابل قبول نہ تھا۔ سو بالآخر اس کی بھی قربانی مانگ ہی لی گئی۔ جہاد باللسان میں جیسے جیسے تیزی آتی گئی دونوں اطراف سے نئے نئے مجاہدین دیکھنے میں آئے۔ اس جانب سے طلال چوہدری او دانیال عزیز کو توپخانہ سونپا گیا اور دوسری جانب خان صاحب نے پی پی کے دور حکومت میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بدزبان ترین لوگوں پہ ہاتھ رکھا۔ پہلے فواد چوہدری کو یہ منصب ملا جو کہ اپنی ذات میں خود ہی ایک چلتی پھرتی گالی ہے اور اس کے بعد فردوس صاحبہ اور بابر اعوان بھی اس دنگل کے لیئے چن لیئے گئے۔ اگرچہ عمران خان صاحب ملک کی درجہ اول کی سیاسی قیادت کا منصب کا احترام نہ کرتے ہوئے خود بھی بدزبانی کے شرمناک نمونے پیش کرتے ہی رہے ہیں لیکن فواد چوہدری تو بیشرمی کے مقام پہ شاید پیدائشی فائز ہے۔ اس کی جانب سے ماضی میں بھی جو جو کچھ سننے کو ملا ہے اگر اس کو جمع کر لیا جائے تو اس مجموعے کا کہیں ناشر نہیں ملے گا۔ آج طلال چوہدری نے بلاول کا ذکر کرتے ہو جو ذومعنی فقرے کہے وہ اخلاقی پستی کی ایک واضح مثال ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی گفتگو کس نچلے درجے پہ جا چکی ہے۔ اگر سیاسی گفتگو کا یہ معیار ہے تو اس سے سیاسی فکر کا اندازی لگانا کچھ مشکل نہیں۔
کیا ہی اچھا ہو دونوں جانب کی اعلیٰ قیادت اپنی ترجمانی کا فریضہ نفیس شخصیات کے سپرد کرے ۔ پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی اسد عمر اور عارف علوی تینوں مہذب انسان ہیں اور اخلاق کے دائرے میں رہ کے تنقید کرنا جانتے ہیں۔ اسی طرح نون لیگ کی جانب سے احسن اقبال، عبدالقادر بلوچ ، خرم دستگیر وغیرہ سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ خدارا وضع داری کی سیاست کا دور واپس لائیں جس میں مخالفین سے مخاصمت اپنی جگہ لیکن اگر مخالف آپ کے پاس آجائے تو کھڑے ہو کرخندہ پیشانی سے ملنا، بیٹھنے کو جگہ دینا ، اور رخصت کرنے دروازے تک جانا اخلاق کا معیار ہے۔ سیاست کے نام پہ مخالفیں کی کردار کشی کرنا چھوڑیں اور ان پہ الزامات گلی چوراہے میں ثابت کرنے بند کریں۔ یہ عدالتوں کا کام ہے اگر کسی پہ کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں جواب دینے دیں۔ جو کچھ آپ لوگ سڑکوں پہ اور میڈیا میں کر رہے ہیں اس سے قوم کے اخلاق پہ منفی اثر بھی پڑ رہا ہے اور وقت بھی برباد ہو رہا ہے۔ خان صاحب ذرا آنکھیں کھول کے دیکھیں کہ آپ کی اوئے کہاں تک آن پہنچی ہے۔ اگر آپ اپنی اس کامیابی پہ واقعی خوش نہیں تو پھر آپ کو شرمندہ ہونا چاہیئے۔ دھیان رکھیں یہ اوئے کسی دن آپ کے گریبان تک بھی آ سکتی ہے۔ سیاست وہ نہیں جو آپ کر رہے ہیں!

2
موجودہ حکومت بہ مقابلہ پچھلے دو ادوار

میں کبھی نواز شریف سے نہیں ملا نہ میری کبھی نون سے کوئی سیاسی وابستگی رہی۔ اگر کبھی کوئی تعلق رہا بھی ہے تو وہ ضیا الحقی مارشل لا کی پیداوار ہونے کے حوالے سے منفی تاثرات پہ مبنی رہا۔ میری ذات کا اس سے کوئی ذاتی نفع وابستہ نہیں۔ ( یہ سب کلمات ان غیر جانب دار لوگوں کے لیے ہیں جو حقائق کو سمجھنا چاہیں نہ کہ ان لوگوں کے لیئے جو ہر بات کو عمرانی چشمے سے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں ، انہوں نے تو تضحیک اور گالم گلوچ کا سبب پھر بھی ڈھونڈ ہی لینا ہے)
میں نہیں جانتا کہ اس کے لندن میں چار فلیٹ کس رقم سے آئے۔ جی چار فلیٹ جن کایہ جھگڑا ہے چار محلات نہیں چار فلیٹ۔ اس کی بات ہی نہ کریں کہ پاکستان میں کتنے جرنیلوں کتنے بیوروکریٹس کے درجنوں محلات ہوں گے۔ کتنے تھانے داروں اور کتنے پٹواریوں کے نام ڈھیروں پلاٹ اور پلازہ جات ہوں گے۔ یہاں چار فلیٹوں کا مسئلہ ہے وہ بھی ملٹی سٹوری بلڈنگز میں۔ ایک ایسا خاندان جو ساٹھ ستر کی دہائیوں سے کاروبار کر رہا ہے کئی مرتبہ ملک کی وزارتِ عظمیٰ اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی حاصل کر چکا ہے ان پہ چار فلیٹوں کی خرد برد کا الزام تو بھینس چوری بھی نہیں بلکہ مرغی چوری جیسا مضحکہ خیز الزام لگتا ہے۔ یار کہیں گے کہ ان فلیٹوں کے علاوہ بے شمار جائیدادیں اور بھی ہوں گی جن کا ڈھونڈنا ممکن نہیں یہ تو صرف پانامہ سکینڈل آسمان سے نازل ہوا تو دریافت ہوئے۔ اچھا جی پانامہ سے پہلے کسی کو ان فلیٹوں کا علم نہیں تھا؟ مشرف دور میں اور زرداری دور میں کیا انہی اثاثوں کی چھان بین نہیں ہوئی اور کیوں کوئی جرم ثابت نہیں کیا گیا؟ کیا صحافت کے تازی کوئی بو چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا دنیا بھر میں آج سیاست دانوں کے لیئے اربوں کھربوں کی جائیدادیں چھپانا اتنا ہی آسان ہے جب کہ بیشمار لوگ کھرے ڈھونڈنے کی سر توڑ کوششوں میں بھی لگے ہوں؟ آپ مان لیں آپ کی مرضی اپنے تو جی کو یہ بات نہیں لگتی۔ اچھا جی یہ چار فلیٹ جیسے تیسے بن گئے تو اس سے میرا کیا گیا؟ کیا یہ مرا پیٹ کاٹ کے بنائے گئے؟ کیا ملک کے تمام مسائل کی جڑ یہی چار فلیٹ ہیں؟ تاثر تو یہی دیا جا رہا ہے!
سو میں تو یہ دیکھوں گا کہ جنہوں نے یہ چار فلیٹ نہیں بنائے اور پاکستان پہ حکومت کرتے رہے انہوں نے مجھے بطور ایک عام شہری کیا دیا اور موجودہ حکومت نے کیا دیا۔ میرے لیئے وہ اہم ہے نہ کہ یہ چار فلیٹ۔ سہانے خواب دکھانے والے اگر میرے آزمائے ہوئے نہ ہوتے تو ان کی باتوں میں ضرور دلچسپی لیتا لیکن اب تو ان کی کھوکھلی باتیں اورطوطا کہانیاں مجھے متاثر نہیں کرتی ہیں۔
2013 سے پہلے جس پاکستان میں میں رہتا تھا وہ دہشت کی علامت تھا۔ 2000 سے لے کر 2008 تک گڈ گورننس کے بانی اور کرپشن کے دارو مشرف صاحب نے دارو پی کر ملک کا جو حشر کیا وہ ایک ڈراونا خواب ہے۔ اپنے ہی ملک کے دارالحکومت میں اس ملک کے محافظ ادارے کے افسران گھر سے دفتر تک وردی پہن کے نہیں جا سکتے تھے۔ آئے دن دھماکے ایک روٹین تھی۔ بچوں کو صبح سکول بھیجنے کے وقت سے لے کر ان کی واپسی تک دل جکڑے رہتے تھے۔ شہر نکلو اور مارکیٹ یا پبلک مقام کو جائو تو ایسا لگتا تھا گویا محاذ جنگ پہ گئے ہیں اور کسی بھی وقت کچھ ہو جانے کا خدشہ ساتھ لگا رہتا تھا۔ ہاں ہاں کہیں کہ اس میں سیاسی حکومت کا تو کوئی کارنامہ نہیں یہ تو فوج کا کمال ہے۔ جناب یہی عطار کا لونڈا جب مالک تھا تو مرض لگا بھی اور بڑھتا بھی جا رہا تھا۔ مرض تو تب ہی قابو آیا جب سیاسی لگام جمہور کے ہاتھ آئی۔ حتیٰ کہ اس معرکے کی ابتدائی کامیابیاں بھی زرداری دور کے سر ہیں نہ کہ مشرف دور کے جس میں ہر محاذ پہ پسپائی جاری تھی، اپنے اڈے بھی غیروں کے حوالے ، اپنے گھر میں ہر سمت سے ایجنٹوں اور دہشتگردوں کی یلغار اور گڈ گورننس اسلام آباد کے محلات میں ناچ رہی تھی۔ جی ہاں کبھی حساب کر دیکھیں کہ وہ جری کمانڈو اس مشکل دور میں کتنی مرتبہ قبائلی علاقوں کے دورے پہ گیا۔ یہ تو تھی امن و امان کی صورتحال اب دیکھیں عام شہری کی زندگی کیسے تھی! راولپنڈی اسلام آباد کی بیشتر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ملتی تھیں، جہاں کہیں مرمت یا تعمیر نو کا کام شروع ہوتا تھا بس پھر وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا، آپ گاڑی پہ کسی طرف بھی نکل جائیں گڑھے، پتھر اور دھول مٹی آپ کا استقبال کرتی تھی۔ یہ دارالحکومت کا حال تھا دگر شہروں کا خود تصور کر لیں۔ جو گلیاں ٹوٹی پھوٹی تھیں ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ لوگ کوڑا ایک دوسرے کے گھروں کے آگے یا خالی پلاٹوں میں پھینک رہے تھے۔ کوڑا تک اٹھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ رشوت کا بازام اپنی گرمی کے عروج پہ تھا۔ پنڈی کی ایک عام سوسائٹی میں ذاتی پلاٹ کی ٹرانسفر اپنے نام کروانے کی پٹواری کی رشوت کے ریٹ 50 ہزار سے شروع ہوتے تھے۔ تھانے کا حال بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔ گھر کا نقشہ پاس کروانا ہو تو معاملہ دس بیس ہزار سے شروع ہو کر لاکھوں میں جاتا تھا۔ گیس کا میٹر 30 سے پچاس ہزار رشوت لے کے لگتا تھا اور بجلی کا میٹر 15 سے چالیس ہزار میں۔ اکثر جگہوں پہ رشوت لے کے کنکشن تو دے دیا جاتا تھا لیکن دو نمبر میٹر لگا کر ایک اور خورد برد کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ مشرف دور میں ہو رہا تھا جو زرداری دور میں مزید بگڑا۔ پورے پنڈی میں عوام کے لیئے ایک ہی بڑا پارک ایوب پارک تھا۔ وہاں بھی خاموش قبضہ جات ہوئے درخت کاٹ کاٹ کے اسے ٹنڈ منڈ کر دیا گیا اور عام لوگوں کی تفریح کے مواقع محدود سے محدود تر کر دیئے گئے۔
اب عام آدمی کی معاشی صورت کا بھی ذکر کر لیتے ہیں۔ 2006 سے2013 کے درمیان عام ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں کم و بیش تین گنا اضافہ دیکھا گیا۔ بڑا گوشت 70 اسی روپے سے چار سو روپے تک جا پہنچا عام سبزی ٹماٹر وغیرہ دس بیس روپے کلو سے بڑھ کر سو روپے کلو تک ہو گئی۔ یہی حال مرغی دال اور دیگر اشیا کا رہا۔
2013 سے لے کر اگلے چار سالوں میں جو موٹی موٹی تبدیلیاں مجھے اپنے گرد و نواح میں نظر آئی وہ یہ ہیں۔ میرے گھر کے سامنے جو گلی گزشتہ پندرہ سال سے ٹوٹی پھوٹی تھی نون لیگ کے لوکل پروگرام والوں نے پختہ کراو دی اور ایسے ہی ارد گرد کی اور بھی بہت سی گلیاں۔ جی میں اور میرے کئی ہمسائے اس وقت نون سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی سے وابسطہ تھے۔ ہماری گلی میں اور علاقے کی ہر گلی میں کوڑے کے بڑے ڈرم رکھ دئیے گئیے اور اب پچھلے تین سال سے سرکاری ٹرک روزانہ کوڑا اٹھا کے لے جاتے ہیں کبھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ گلی سے نکل کے جو بڑی سڑک آتی تھی وہ بھی ایک مدت سے شکستہ حال پڑی تھی اور اس کا کوئی وارث نہیں تھا۔ اس سڑک اور اس کے دائیں بائیں سیوریج نالوں کا کام نون حکومت کے دوسرے سال میں شروع ہو گیا اور ایک سال میں مکمل۔ وہی سڑک جو پہلے کھنڈرات کا منظر پیش کرتی تھی اب صاف ستھری پختہ ڈبل روڈ ہے۔ پینشن چار سال میں تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔آٹا ٹماٹر پیازمرغی وغیرہ تقریباً چار سال پہلے یا اس سے کم ریٹ پر ہیں۔ بڑا چھوٹا گوشت قیمت میں کچھ بڑھے ہیں لیکن یہ اضافہ نہایت معقول ہے۔ پٹوار خانے ایک مرتبہ پلاٹ ٹرانسفر کے لیئے جانا ہوا تو بغیر کسی سفارش تعارف یا رشوت کے خاموشی سے کام کر دیا گیا۔ سوئی گیس اور بجلی کے میٹر لگانے والے جو ٹاوٹ جو پہلے گلیوں میں عام دندناتے نظر آتے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے۔ قسم نہیں کھا سکتے کہ رشوت ختم ہو گئی ہے لیکن ہے تواب ننگی نہیں رہی با پردہ ہو گئی ہے۔ جو بدمعاش اور قبضہ گروپ پہلے عام دکھائی دیتے تھے اور سب ان سے ہراساں تھے اور آئے دن ان کی وارداتیں سننے کو ملتی تھیں اب شاذ و نادر ہی کہیں ان کا تذکرہ ہوتا ہے ہاں اکا دکا چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں ضرور ہوتی ہیں۔ بازاروں میں اشائے خوردو نوش کی کمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ سی این جی اسٹیشنز اور پٹرول پمپوں پہ میلوں لمبی لائینز کہیں نظر نہیں آتی ہیں۔ جی یاد کریں گیس یا پیٹرول بھروانے کے لیئے کئی کئی گھنٹے لائینوں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا اور بکبھی کبھی تو رات کو جا کے لائین میں لگو تاکہ صبح باری آ جائے یہ ہوتا تھا ۔۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کا ہولناک جن اب بالکل معذور سا ہو کے رہ گیا ہے۔ سولہ سولہ گھنٹے والی لوڈ شیڈنگ اب دو چار گھنٹے پر آ گئی ہے اور اچھے موسم میں تو کئی مرتبہ صفر لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ بچوں کو اب سکول بھیجتے ہوئے یا خود مارکیٹ جاتے ہوئے یہ خیال نہیں آتا کہ محاذ جنگ کو جارہے ہیں۔ کئی قسم کے سرکاری اہل کار جو بھتا لینے پہلے مارکیٹوں میں پھرتے رہتے تھے اب ان کی وارداتیں کم ہی سننے کو ملتی ہیں۔ لوکل سیاست سے وابسطہ جو بھائی آبائی حلقوں میں رہتے ہیں ان سے ملیں تو نون لیگ کی یہ شکایت سناتے ہیں کہ اگر ان سے سفارش پہ بھرتیوں کی بات کرو تو میرٹ کی کہانی سنا کے کورا جواب دے دیتے ہیں۔ اب کس کس بات کا ذکر کریں؟ پھر بھی اگر مجھے کوئی کہے کہ چونکہ چار فلیٹوں کا مسئلہ پاکسان میں انصاف کی سربلندی کی علامت ہے اور اس سربلندی کے بدلے مجھے موجودہ حکومت کے دور کے بدلے مشرف جیسے بھیانک دور کی نوید دی جائے تو میں چلائوں نہیں تو کیا کروں۔
ہاں ایک بات کا تذکرہ رہ گیا جو خاکی وردی والوں سے ضرور پوچھیں کہ مارشل لا دور میں نچلے عہدوں کے افسروں اور جوانوں کے معاشی حالات کیا تھے اور آج کیا ہیں۔ جو افسر اس دور میں بمشکل مہینہ گزارتے تھے آج نہایت معقول تنخواہیں پا رہے ہیں اور تنخواہوں میں یہ با عزت اضافہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت ہی میں ہوا۔ مارشل لا دور میں صرف چند خاص جرنیلوں اور ان سے وابسطہ لوگوں ہی کے پیٹ بھرے جاتے ہیں چھوٹے افسران اور سپاہی صرف رگڑا ہی کھاتے ہیں۔

3
پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک مجرم وزیر اعظم کا احتساب! کیا واقعی؟

پاکستان کی تاریخ اس وقت ایک سنہرے موڑ پہ کھڑی ہے جس سے مڑتے ہی آگے ایک ایسی گلی آئے گی جس میں مکان چاندی کے ہوں گے دروازے سونے کے اور گھر کے نلکوں میں پانی کی جگہ دودھ آیا کرے گا۔ بہت سے معصومین ہنوز یہی خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اس بات کا کامل یقین ہے کہ حضرت عمران خان کی فرشتہ صفت قیادت میں کچھ دیگر فرشتوں کے تعاون سے ایک بدمعاش اور چور وزیر اعظم کو گھیر کے احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا جو معجزہ سوشل میڈیا اور سڑکوں پہ گالی گلوچ کے ذریعے ہوا ہے وہ ایک تاریخی کارنامہ ہے جس کا سہرا عمران خان، باکمال تحقیقاتی ٹیم وغیرہ کے سر جاتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے۔ ذرا پاکستان کے ماضی میں تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہاں کیا نظر آتا ہے۔

پاکستان میں محلاتی سازشوں کا سلسلہ ابتدا ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ ہر بری حکومت کو کسی نیک اور محب وطن نجات دہندہ نے الزاماتی پلندے کے بوجھ تلے دبا کے ہی رخصت کیا۔ طبعی سیاسی موت کا ہم نے رواج پڑنے ہی نہیں دیا۔ احتساب کی تلوار بہت ابتدا ہی میں نیام سے نکل آئی تھی اور ایسی نکلی کہ آج تک واپس نہیں گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ احتساب کی تلوار سول حکمرانوں ہی پہ گرتی رہی اور انہی کو ہر مرتبہ الزامات کے پلندے تلے رخصت کیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے حکمران اگر بدقسمتی سے فضا ہی میں بھٹ نہ جائیں تو ہمیشہ گارڈ آف آنر ہی لے کے رخصت ہوئے خواہ ان کی کارکردی میں ملک کا بٹوارہ ہی کیوں نہ شامل ہو۔ پہلی تلوار سول بیوروکریسی نے چلائی، پھر فوجی بیوروکریسی کشتی پہ سوار ہو گئی اور اسکے بعد اس نیکوکارہ ٹیم میں عدلیہ بھی شامل ہو گئی۔ لیاقت علی خان کے قتل اور ملک غلام کے گورنر جنرل بننے کے بعد اقتدار کی غلام گردشوں میں جو کھیل شروع ہوا وہ آج تک جاری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دیر سے جسمانی جنم اور بہت ہی دیر سے سیاسی جنم لینے والے معصومین کا خیال ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ احتساب شروع ہوا ہے اور جیسے ہی یہ احتساب پایہ تکمیل کو پہنچے گا پاکستان میں دودھ اور شہر کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔

لیاقت علی خان کے راولپنڈی میں سیاسی جلسے کے دوران قتل کے بعد ( بینظیر بھٹو کا قتل ریپیٹ ٹیلی کاسٹ تھا۔ خبردار کسی نے بین الاقوامی سازشوں کی بات کی ) خواجہ ناظم الدین 1951 میں وزارت عظمیٰ کے منصب پہ بیٹھے۔ خواجہ ناظم الدین کی حکومت دو ظاہری الزامات اور ایک پس پردہ الزام کے تحت رخصتت ہوئی۔ پہلا الزام غذا کی قلت کنٹرول کرنے میں حکومت کی ناکامی تھا۔ اس الزام کے پیچھے درحقیقت کیا عوامل تھے وہ جاننے کے لیئے حکومت کی وہ زرعی اصلاحات دیکھنی ہوں گی جن سے چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ تھا اور بڑے زمیندار ناراض تھے چنانچہ بڑے زمیندار غذا کی قلت پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسرا الزام احمدیوں کے خلاف مذہبی انتہا پسندانہ کاروائیاں اور چند احمدیوں کا قتل اور اس حوالے سے حکومتی کمزوری۔
اب ان کاروائیں میں اس وقت پس پردہ کون سی مذہبی تنظیمیں شامل تھیں اور حکومت کی کیا کوئی واقعی کمزوری تھی یا حکومت کو مفلوج کرنے کا ایک بہانہ تھا اس کے لیئے تاریخ کی کتاب اٹھا کے دیکھ لیں ۔ تیسرا الزام یا الزام نہ کہیں وہ وجہ کہ جس کی وجہ سے سول بیوروکریسی کی کشتی پہ سوار ہونے میں فوجی بیروکریسی کو دلچسپی ہوئی یہ تھی کہ حکومت نے فوج کے بجٹ میں غذا کی قلت کے مسئل وغیرہ کی وجہ سے کٹوتی کر دی جو فوج کو ناگوار گزرا۔

مختصر یہ کہ گورنر جنرل ملک غلام نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو طلب کیا۔ الزامات کی فہرست سامنے رکھ کے استعفیٰ دینے کو کہا۔ وزیر اعظم نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو گورنر جنرل نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم کو اسمبلی سمیت برطرف کر دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی پشت پہ تھی اس لیئے کمزور سول حکومت بے بسی سے ہاتھ ملتی رہ گئی۔ اب قانونی چارہ جوئی کا ہی رستہ باقی تھا سو آئینی معاملات کو دیکھنے کی اہل اعلیٰ ترین عدالت کے پاس ملک کے لٹے پھٹے وزیر اعظم اور اسمبلی کا مقدمہ لے کے سپیکر مولوی تمیز الدین حاضر ہوئے اور داد رسی چاہی۔ انصاف کے ایوانوں میں سولین حکومت اور پارلیمان کے داد رسی چاہنے کا یہ پہلا منظر 1953 میں دیکھا گیا۔ عدل کی دیوی کی نہ صرف آنکھوں پہ پٹی بندھی تھی بلکہ اس کا قلم بھی اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔ ڈور سے بندھے جسٹس منیر کے قلم نے نظریہ ضرورت تحریر کر کے پاکستانی جمہوریت کے مقبرے پہ وہ عظیم الشان کتبہ نصب کر دیا جس پہ ہر دیکھنے والا تھوکتا ضرور ہے لیکن بدقسمتی سے یہ اکثر نظروں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔ 1953 سے 2017 کا سفر انصاف کے حوالے سے دیکھیں تو شاید یہی نظر آئے کہ پہلے صرف آنکھوں اور قلم کا معاملہ تھا ، آج زبان بھی اپنی نہیں رہی۔ اناللہ و انا لیہ راجعون۔

ابھی اس کہانی کا ایک کردار باقی ہے جو امریکہ میں بیٹھا ہے اور وہاں پاکستان کا سفیر ہے۔ اب معصومانہ سوچ تو یہی ہے کہ وہ کردار امریکہ میں سو رہا ہو گا اور اچانک ہی اسے پاکستان طلب کر کے وزیر اعظم بنا دیا گیا ہو گا سو بظاہر تو ایسا ہی ہوا۔ وہ سویا ہوا کردار محمد علی بوگرہ کا ہے۔ کسی بین الاقوامی سازش کا سرا ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب یہ تو کوئی بات نہیں کہ آپ کی خواہش پہ سری لنکا یا بھوٹان میں متعین سفیر کو وزیر اعظم بنا دیاجاتا۔

نوٹ: آپ سب سے درخواست ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہونے والی تمام سازشوں کا اپنے اپنے علم کے مطابق کمنٹ میں اندراج کریں۔ یہ بتائیں کہ کون سی حکومت کس نے کب رخصت کی اور کن الزامات کے تحت کی۔ کس کس کو گارڈ آف آنر کے ساتھ بھیجا گیا اور کن کارناموں پر۔

اضافی نوٹ: غیر متعلقہ کمینٹ سے براہ مہربانی اجتناب کریں تا کہ صرف تاریخی حقائق پہ توجہ مرکوز کی جا سکے۔

4
سیاسی تجزیہ کار / گھمسان کا رن کہاں جائے گا
« بروز: جولاي 08, 2017, 01:05:18 ش »
گھمسان کا رن کہاں جائے گا

خوابوں کی دنیا میں رہنے والوں کو ایک سادہ سی بات سمجھ نہیں آرہی کہ کسی بھی آئینی اور قانونی فارمولے سے فی الحال نواز شریف کو وزیر اعظم کی کرسی سے تو ہٹایا جا سکتا ہے طاقت کی مرکزیت سے نہیں۔ حکومت نون ہی کی رہنی ہے اور نواز جس کو بھی نامزد کرے گا وہی اس کا تابعدار وزیر اعظم ہو گا۔ عدالتی سزا اور کردار کشی کے ذریعے یہ امید رکھنا کہ نواز کا ووٹ بینک متاثر ہو جائے گا ایک بچگانہ سوچ ہے۔ اس کام سے اگر ووٹوں میں کوئی فرق پڑا بھی تو وہ یہ ہو گا کہ ہمدردی کا ووٹ بڑھے گا۔ اول تو قرآئین کی روشنی میں سازش کو جھٹلانا تقریباً ناممکن ہے لیکن بہ فرض محال یہ مان بھی لیں کہ کوئی سازش نہیں تو پھر بھی پاکستان کی پرانی تاریخ کا حوالہ دے کر نواز شریف کے لیئے کچھ مشکل نہیں کہ عوام کو سازش کے حقیقی ہونے پر قائل کر لے۔
کرپشن ورپشن اور وائٹ کالر کرائم کے نعرے ڈرائینگ روموں کے گرم ماحول میں تو اچھے لگتے ہیں لیکن یہ عوامی ترجیحات میں بہت نیچے ہیں۔ اس لیئے ان کا استعمال ہمیشہ ایک فوری دستیاب سازشی ہتھیار سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہے بھی تو وہ کم از کم آنکھیں کھول کر یہ دیکھنے کی زحمت تو کرے کہ صرف ایک شخص کو اقتدار سے ہٹانے کے سوا ملکی کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے کسی بھی حلقے میں کتنی گرمجوشی دکھائی دے رہی ہے۔ کیا اپوزیشن کیا عدلیہ اور کیا اسٹیبلشمنٹ سبھی کرسیوں پہ ایک کثیر تعداد ان لوگوں کی موجود ہے جو ملکی وسائل کو اپنے ذاتی مفاد کے لیئے بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ جے آئی ٹی کا بزنس کلاس میں سفر کرنا ایک تازہ مثال کے طور پہ حال ہی میں سامنے آیا۔ پی ٹی آئی کے کتنے ہی لیڈروں پہ بڑی کرپشن کے الزامات ہیں، پی پی پی کی کرپشن کی الف لیلوی داستانوں کو ذہن میں رکھیں اور یہ بھی ملاحظہ کریں کہ نہ تو آج ان کا کوئی نام لیتا ہے اور مزید یہ کہ اسی الف لیلہ کے کردار ایک ایک کر کے پی ٹی آئی کی برگزیدہ صفوں میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ اور پھر موٹی سی بات کہ احتساب کا مطالبہ کرنے والوں نے ایک طویل مدت اپنی ڈیوٹی یعنی اسمبلی سے غیر حاضر رہنے کے باوجود تنخواہ وصول کرنے میں ذرا بھی جھجک نہیں دکھائی۔ کیا یہ کرپشن نہیں۔
تو جناب حقیقت یہی ہے کہ اقتدار 2018 تک تو بہر حال نواز ہی کے پاس ہے جب تک غیر آئینی اقدام سے اس کا تخت نہ الٹا جائے یا سازش کا دائرہ کار مزید بڑھا کر نون لیگ میں پھوٹ ڈالی جائے اسی طرح 2018 کے الیکش آج کے معروضی حالات کے مطابق تو نون ہی کے ہیں سوائے اس کے کہ سازشی عناصر نے اپنی سازش کے دائرہ کار کو پری ایلکشن اور الیکشن دھاندلی تک بڑھایا۔ ان سب اقدامات کے پاکستان کی سیاست پر جو دور رس نتائج نکلیں گے کوئی بھی سمجھدار انسان ان کا اندازہ کر سکتا ہے ماسوائے ان لوگوں کے جو نفرت یا عقیدت سے سرشار ہیں۔ جس نئے پاکستان کا وہ خواب دیکھ رہے ہیں اس کی تو دھجیاں ہی اُڑ جائیں گی۔
جب حقیقت یہ ہے کہ نواز کو ہٹا بھی لیں تو وزیر اعظم نواز ہی کا نامزد کردہ ہو گا تو یہ تصور کرنا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ یا اپوزیشن کے لیئے کوئی نرم گوشہ رکھے گا کیا معنی رکھتا ہے۔ وہ جو کوئی بھی ہو گا ان محاذوں پہ ضرور فرنٹ فٹ پہ کھیلے گا اور جو ہچکچاہٹ آج نواز کو ہے اسے نہیں ہو گی کیونکہ انتہائی اقدام تو ہو چکا ہو گا اس کے بعد کیا ڈرنا۔ سو اگر تو مقصد نواز کو اپنی جگہ پہ رکھنا ہے تو یہ سازش انتہائی قدم سے ایک قدم پہلے روکنی ہو گی اور نواز کو بحال رکھنا ہو گا کیونکہ زخم خوردہ شیر کبھی بھی ترجیح نہیں ہو سکتا۔ دوسری صورت کہ جس میں انتہائی اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا ہے وہ غیر آئینی اقدام سے کم پہ نہیں رکے گی کیونکہ جن مقاصد کے لیئے یہ سارا کھلواڑ ہے وہ اس سے کم پہ حاصل نہیں ہو سکتے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتہائی حساس اندرونی اور بیرونی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کون سی قوتیں ہیں جو غیر آئینی اقدامات میں دلچسپی رکھیں گی۔ چین کے انتہائی اہم سٹریجک مفادات پاکستان میں کسی اندرونی غیر یقینی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے سو وہ تو کبھی ایسا نہیں چاہے گا۔ امریکہ جو اس وقت خلیج میں اپنے مفادات کے حصول کے لیئے پاکستان کو دوہرے مقاصد سے استعمال کرنا چاہتا ہے وہ ماضی کی طرح ون ونڈو آپریشن کا خواہاں ہو گا۔ نیز چینی سٹریٹیجک مفادات اس کے مفادات سے راست ٹکرائو پہ ہیں سو اس کی ترجیح اس وقت پاکستان کا اندرونی عدم استحکام ہے۔ اس کے لیئے وہ افغانستان ، بھارت اور ایران کی سرحدوں کا استعمال بھی کرے گا اور اپنے سوئے اثاثوں کو جگانے میں بھی کوئی تامل نہیں کرے گا۔
سو جن کو ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ وہ کسی بلی چوہے کا کھیل دیکھ رہے ہیں وہ جاگ جائیں اور اس بات کا ادراک کریں کہ یہ ہاتھیوں کی لڑائی کے مناظر ہیں اور اب تو یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ چوہے بلی کے پیچھے کون کون سے ہاتھی ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ کنٹرولڈ کیاوس ڈاکٹرائین کے مطابق ہو رہا ہے یا آپریشن ایکس کے تحت۔

5

برٹرینڈ رسل کے خطوط ۔۔میں ذکر ذوالفقار علی بھٹو!


ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی بیانیہ “ملک کو سیاستدان لوٹ گئے” کے گرد گھومتا ہو، جہاں آج بھی محفلوں میں آمریت و جمہوریت کا موازنہ کیا جاتا ہو، جہاں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے ذمہ داروں کے تعین پر بحث میں بھٹو کو گھسیٹا جائے جبکہ اس سانحے سے پہلے کی پوری دہائی آمریت راج کرتی رہی ہو تو وہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دنیا کے عظیم فلسفی مفکر انسانیت دوست، مشرق کو مغرب کے استحصال سے نجات حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے برٹرینڈ رسل، ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔

کیا یہ وہی برٹرینڈ رسل ہیں جن سے سربراہان مملکت ہاتھ ملانا اعزاز سمجھتے تھے؟

بھٹو کو کن جرائم کی سزا ملی تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ بہت سی اہم دستاویزات اس تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہی اہم دستاویزات میں برٹرینڈ رسل کے خطوط جو انہوں نے بنام بھٹو لکھے یا جن میں بھٹو کا ذکر کیا اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔

بنیادی طور پر بھٹو کا قتل، کسی ملک کا نہیں بلکہ تیسری دنیا کا ایک ایسا المیہ ہے جسے بیان کرنے کے لیے یونانی ڈرامہ نگاروں کی سی تخلیقی قوت چاہیے۔ جیو میں ملازمت کے دوران مجھے ایک دستاویزی فلم “مقدمے کا قتل” بنانے کا اتفاق ہوا۔ یہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر صرف مقدمے کے تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لانے کے لیے بنائی جانی تھی۔ میرے سینئر پروڈیوسر اور مہربان آغا اقرار ہارون نے دستاویزی فلم پر تحقیق کرنے سے پہلے مجھے متنبہ کیا کہ ” اس کو خالص تکنیکی اعتبار سے دیکھو، دنیا بھر کے ماہر قوانین کی اس مقدمے کے حوالے سے کتابیں پڑھو، پورا مقدمہ کھنگالو ۔۔لیکن خدا کے لیے بھٹو کی طلسماتی شخصیت سے اس تحقیق کے دوارن تاثر نہ ہونا، ورنہ تحقیق متعصب ہو جائے گی”

میں نے دیانتداری سے کوشش کی لیکن مقدمے کی باریکیوں اور بھٹو کے جیل میں شب و روز کو پڑھنے کے دوران کسی انسان کے بس میں نہیں رہتا کہ وہ مسٹر بھٹو کی شاندار شخصیت کے طلسمات کا شکار نہ ہو جائے۔

جب ہم پروگرام پری ویو کرنے بیٹھے تو سیاہ سکرین پر ایک یونانی المیہ ڈرامہ کے بادشاہ سفوکلیز کا لکھا ایک جملہ سکرین پر ظاہر ہوتا ہےاور آغا اقرار ہارون صاحب مجھے گھورتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ تمھیں متنبہ کیا تھا بھٹو کے طلسم کا شکار نہیں ہونا۔

میں نے کہا آغا صاحب کٹوا دیں ۔ لیکن آغا صاحب کیسے یہ جملہ کٹواتے وہ اس مقدمے اور بھٹو کی شخصیت سے کہیں زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا ۔۔۔جانے دو!

بھٹو کی مغرب کے پنجوں سے مشرق کی جان چھڑانے کی کوششوں سے کافی لوگ واقف ہیں اور یہ ایک الگ تفصیلی موضوع ہے ۔ اس مضمون میں پڑھیے کہ برٹرینڈ رسل کی دوراندیش فکر کیا دیکھ رہی ہے؟

یہ خطوط عالمی رہنماؤں کے نام ہیں جن میں بھٹو کا ذکر کیا گیا۔ کئی خط طویل ہیں میں نے صرف وہی حصے رکھے ہیں جن میں بھٹو صاحب کا ذکر ہے۔۔۔

برما کے نی اون کئ نام ۔۔۔

ڈئیر نی اون

یہ مکتوب تحریر کرنے سے میرا مقصد تحسین کے ان جذبات کا اظہار ہے جو میں آپ کی آزادانہ پالیسیوں کے حوالے سے رکھتا ہوں۔ آپ کو ایشیائی استحکام کے لیے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ مجھے اس کی شدت کا بخوبی اندازہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے معلوم ہوا کہ آپ لندن میں تھے۔ وہ بھی آپ کو ایشیا کا عظیم لیڈر قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے سے میرے ذاتی تاثرات کو تقویت ملی۔مجھے ذوالفقار علی بھٹو جیسے سچے قوم پرست اور ترقی پسند رہنماؤں پر امریکی دباؤ سے شدید تشویش ہے۔

تمام تر بہترین تمناؤں کے ساتھ۔۔

مخلص برٹرینڈ رسل

سپیکٹیٹر کے ایڈیٹر کے نام ۔۔۔

محترم ایڈیٹر

حالیہ تبدیلیوں کا علم رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغرب کی مفاد پرستانہ سیاست عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ قائدین کو اپنا اولین نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ یہاں پر ان اسباب کا تجزیہ بے محل نہ ہو گا جن کی بنا پر مسٹر بھٹو کو ہدف عناد بننا پڑا، مسٹر بھٹو وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے نہر سویز کے مشرق میں بنائی جانے والی سامراجی پالیسیوں کو بے نقاب کر کے رکھ دیااور ہر موقع پر ان کے خلاف حقارت سے بھرپور تقریریں کیں۔ امریکی سازشوں سے ان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دیا گیا۔ امریکیوں کا یہ فعل اس ڈرامے کا آغاز ہے جو وہ دوسرے ملکوں میں کھیل چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یوں ہٹا دیا جانا اس ملک کے مستقبل کے لیے ایک عظیم خطرہ ہے ۔

مخلص برٹرینڈ رسل

صدر ناصر کے نام ۔۔۔۔

ڈیر پریذیڈینٹ ناصر

میں نے امریکہ کی ان کوششو ں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھا ہے جو وہ ایسے رہنماؤں کو تباہ کرنے کے لیے کرتا رہتا ہے جو بیرونی لٹیروں اور مغربی ملکوں کے دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے کی سعی کرتے ہیں۔ مسٹر بھٹو بلاشبہ پاکستان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کے معمار ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ اور امریکہ نے بھٹو کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کے لیے زبردست دباؤ سے کا م لیا۔ مسٹر بھٹو نے تن تنہا افریقی و ایشیائی استحکام کے لیے جدوجہد کی۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں واقعات ایسا رخ اختیار کریں گے کہ مسٹر بھٹو اقتدار میں آجائیں۔

آپ مجھے اپنے ملک کا دوست تصور کر سکتے ہیں۔ میری طرف سے آپ کے عوام کے لیے گرم جوشی سے مبارکباد

مخلص

برٹرینڈ رسل

صدر سوئیکارنو نے نام

پیارے صدر سوئیکارنو

میں یہ خط اس دباؤ پر اظہار ناپسندیدگی کے لیے لکھ رہا ہوں جو سچے قومی رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ میں گھانا میں رونما ہونے والے واقعات کو بڑی تشویش سے دیکھتا رہا ہوں۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے آپ کے متعلق اپنی بے پناہ پسندیدگی کے بارے میں بتایا۔مسٹر بھٹو نئی تبدیلی کے رہنما ہیں ۔ اس راہ میں کسی بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے لیکن مجھے یقین ہے کہ جن پالیسیوں کے لیے آپ جیسے رہنماؤں نے زندگیاں وقف کی ہیں وہ عوام کی بھرپور تائید کی وجہ سے برقرا ر رہیں گی

مخلص

برٹرینڈ رسل

روسی وزیر خارجہ کے نام

ڈیر مسٹر گرومیکو

میں امریکہ سے اس دباؤ کو دیکھ رہا ہوں جو وہ ایسے رہنماؤں کے لیے استعمال کر رہا ہے جو وطن اور عوام سے مخلص ہیں۔ حال ہی میں مسٹر بھٹو کو ہٹایا گیا۔ مسٹر بھٹو پاکستان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کے خالق ہیں اور انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ تیل کا معاہدہ کر کے دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ روس اور چین کے ساتھ روابط کو مضبوط کیا ہے۔۔

مخلص

برٹرینڈ رسل

اردشیر زاہدی کے نام

ڈئیر مسٹر زاہدی

میں توجہ سے ان مثبت اقدامات کا جائزہ لیتا رہتا ہوں جو آپ کی حکومت نے مشرقی یورپ کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور خومختاری کی بنیادوں پر ترقی کرنے کے لیے کیے ہیں۔ امریکی امداد سے نجات حاصل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

مسٹر بھٹو جن سے میں کافی عرصہ سے تبادلہ خیال کر رہا ہوں اور جن کی آرا ء کی میں بے حد قدر کرتا ہوں انہوں نے بھی آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ وہ آپ کو ایک ایسا رہنماخیال تصور کرتے ہیں جو اپنے ملک کے لیے حقیقی ترقی پسندانہ سوچ رکھتا ہے ۔ ۔۔۔

نیک تمناؤں کے ساتھ

برٹرینڈ رسل

چینی ناظم الامور کے نام ۔۔

ڈئیر شینگ شیانگ

آپ جانتے ہوں گے کہ ویت نام جنگ کے حوالے سے میں جنگی جرائم کا ٹربیونل تشکیل دینے کے لیے سرگرمی سے کام کرتا رہا ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ اس سلسلے میں مجھے عوامی چین کا تعاون حاصل ہو۔

مجھے امید ہے کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ سیاسی طور پر آپ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی مدد جاری رکھ سکیں۔ یہ بھٹو ہی تھے جو چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ترقی پسند انسانیت کے مقصد کو آگے بڑھانے کی پالیسی روبہ عمل لائے۔ میں یہ جاننے کا معقول جواز رکھتا ہوں کہ انہوں نے چین کے ساتھ دوستی کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ اپنے مالی فوائد کے خاطر امریکی مفادات کی خدمت کرنے والے عناصر ان کی بری طرح مخالفت کررہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں حالات ایسا رخ اختیار کر رہے ہیں کہ مسٹر بھٹو اقتدار میں آئیں گے، ایوب کے کردار نے عوا م کو مایوس کر دیا ہے اور یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اب وہ پوری طرح امریکی اثرات میں آچکا ہے،وہ تیز رفتاری اس امر کی شاہد ہے جو اس نے پالیسی تبدیل کرنے میں دکھائی ہے۔ یہ تبدیلی دغابازی کی حدود کو چھو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھٹو کی اقتدار میں واپسی کوئی دور کی بات نہیں۔ میرے نزدیک عوامی چین کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ مسٹر بھٹو کا ساتھ دیتے ہوئے اس امکان کا آگے بڑھائے۔ مجھے امید ہے کہ یہ خیالات پیکینگ تک پہنچا دیے جائیں گے

ہر چند یہ محض تاثرات ہیں لیکن یہ بڑی ٹھوس بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

نیک تمناؤں کے ساتھ

برٹرینڈ رسل

ایڈیٹر اکانومسٹ کے نام

سر

اکانومسٹ پر بھٹو پر کی گئی تنقید کو ماضی کے سیاق و سباق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ مغربی ممالک کی نظروں میں مسٹر بھٹو کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے آزادانہ پالیسی مرتب کی۔ جس کی وجہ سے ان کا ملک ان ملکوں سے علیحدہ ہوگیا جو امریکی سامراج کے دم چھلے ہیں۔ مسٹر بھٹو کی مقبولیت صرف لندن تک محدود نہیں ہے بلکہ اور بھی کئی ہیں جو ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں اور ان کی آزادانہ اور خود مختارانہ پالیسی کے مداح ہیں جو ان کے اپنے ملک اور افریقہ، ایشیا لاطینی امریکہ کے عوام کے معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔

آپ کا مخلص

برٹرینڈ رسل

پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ کے نام

ڈئیر مسٹریوسف

میں یہ خط آپ کو مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں بتانے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مسٹر بھٹو میرے دیرینہ دوست ہی نہیں بلکہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی ذات پر میں مکمل اعتماد رکھتا ہوں۔ انہوں نے آپ کے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ترغیب و تحریص سے بالاتر دیانت کے ساتھ آپ دونوں نے برسوں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہے ۔ پاکستان کے حقیقی مفادات کے ساتھ آپ کی گہری وابستگی بالکل واضح ہے۔

مخلص

برٹرینڈ رسل


از وقار احمد ملک

6
ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
-------------------------------------------------
دارالعلوم کراچی کے تحت ’’حرا فائونڈیشن اسکول‘‘ کی حفظ قرآن کی تقریب کے موقع پر شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا معلومات آفریں اور بصیرت افروز خطاب مشاہدات:
وقت کی کمی کے پیش نظر بہت اختصار کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’حرا فائونڈیشن اسکول‘‘ جس کی حفظ قرآن کی تقریب میں آج ہم اور آپ شریک ہیں، اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ بات رئیس الجامعہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے مختلف مواقع پر مختلف نشستوں میں دہرائی، مجھے بھی اپنے والد مفتی محمد شفیع صاحبؒ سے سنی گئی اس بات کو کئی جگہ سنانے کی توفیق ہوئی۔ پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان میں تین بڑے نظامِ تعلیم معروف تھے: ایک دارالعلوم دیوبند کا نظامِ تعلیم، دوسرا مسلم یونیورسٹی علیگڑھ کا نظامِ تعلیم اور تیسرے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا نظامِ تعلیم۔ حضرت والد ماجدؒ نے تقریباً 1950ء میں ایک موقع پر جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات فرمائی تھی: ’’پاکستان بننے کے بعد درحقیقت نہ ہمیں علیگڑھ کی ضرورت ہے، نہ ندوہ کی ضرورت ہے، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں ایک تیسرے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے اَسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘
بظاہر سننے والوں کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی تھی کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک مستند مفتی اعظم اور دارالعلوم دیوبند کا ایک سپوت یہ کہے کہ ہمیں پاکستان میں دیوبند کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے۔
حضرت والد ماجدؒ نے جو بات فرمائی وہ درحقیقت ایک بہت گہری بات ہے اور اُسی کے نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہمارے ہاں بڑی عظیم غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان میں جو تین نظامِ تعلیم جاری تھے، وہ درحقیقت فطری نہیں تھے، بلکہ انگریز کے لائے ہوئے نظام کا ایک نتیجہ اور انگریز کی لائی ہوئی سازشوں کا ایک ردّعمل تھا، ورنہ اس سے پہلے رائج مسلمانوں کے صدیوں پرانے نظامِ تعلیم پر غور کیا جائے تو اس میں مدرسے اور اسکول کی کوئی تفریق نہیں ملے گی۔ وہاں شروع سے لے کر اور انگریز کے زمانے تک مسلسل یہ صورت حال رہی کہ مدارس یا جامعات میں بیک وقت دونوں تعلیمیں دینی اور عصری تعلیم دی جاتی تھیں۔
صورت حال یہ تھی کہ شریعت نے جو بات مقرر کی کہ عالم بننا ہر ایک آدمی کے لیے فرضِ عین نہیں، بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ یعنی ضرورت کے مطابق کسی بستی یا کسی ملک میں علماء پیدا ہوجائیں تو باقی سب لوگوں کی طرف سے وہ فریضہ ادا ہوجاتا ہے، لیکن دین کی بنیادی معلومات حاصل کرنا فرضِ عین ہے، یہ ہر انسان کے ذمے فرض ہے۔ اُن مدارس کا نظام یہ تھا کہ اُن میں فرضِ عین کی تعلیم بلاامتیاز ہر شخص کو دی جاتی تھی، ہر شخص اُس کو حاصل کرتا تھا، جو مسلمان ہوتا تھا۔ البتہ جس کو علمِ دین میں اختصاص حاصل کرنا ہو، اُس کے لیے الگ مواقع تھے۔ جو کسی عصری علم میں اختصاص حاصل کرنا چاہتا تھا، اُس کے لیے مواقع الگ تھے۔
گزشتہ سال میں اور برادرم معظم حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مراکش میں تھے۔ میں نے پچھلے سال دیکھا تھا اور حضرت نے اِس سال اُس کی زیارت کی۔ مراکش کو انگریزی میں ’’موروکو‘‘ کہتے ہیں، اُس کا ایک شہر ہے جس کا نام ’’فاس‘‘ ہے۔ میں ’’فاس‘‘ کے شہر میں پچھلے سال گیا تھا اور اِس سال حضرت بھی تشریف لے گئے تھے۔ وہاں ’’جامعۃ القرویین‘‘ کے نام سے ایک جامعہ آج تک کام کررہی ہے۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کی مشہور اسلامی جامعات کا جائزہ لیں تو چار بنیادی اسلامی جامعات ہماری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ اُن میں سب سے پہلی مراکش کی جامعہ ’’القرویین‘‘ ہے۔ دوسری تیونس کی جامعہ ’’زیتونہ‘‘ ہے۔ تیسری مصر کی ’’جامعۃ الازہر‘‘ ہے اور چوتھی ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہے۔ تاریخی ترتیب اسی طرح ہے۔
اس میں سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی جو مراکش کے شہر ’’فاس‘‘ میں قائم ہوئی، تیسری صدی ہجری کی جامعہ ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ترتیب میرے سامنے نہیں آئی کہ یہ صرف عالم اسلام ہی کی نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ اس تیسری صدی یونیورسٹی کے بارے میں اُس کی تاریخ کے کتابچے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ اُس وقت جامعۃ القرویین میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے اُن میں اسلامی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج عصری علوم کہتے ہیں، وہ سارے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدونؒ، ابن رُشدؒ، قاضی عیاضؒ اور ایک طویل فہرست ہمارے اکابر کی ہے جنہوں نے جامعۃ القرویین میں درس دیا۔ اُن کے پاس یہ تاریخ آج بھی محفوظ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن خلدونؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن رُشدؒ درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قاضی عیاضؒ نے درس دیا ہے۔ یہاں ابن عربی مالکیؒ نے درس دیا ہے۔ تاریخ کی یہ ساری باتیں اُن کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اس لحاظ سے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس تو ہر جگہ ہوں گے، لیکن جامعۃ القرویین ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں تمام دینی اور عصری علوم پڑھائے جاتے تھے۔
اس یونیورسٹی میں آج بھی تیسری اور چوتھی صدی کی سائنٹفک ایجادات کے نمونے رکھے ہیں۔ اُس زمانے میں اسی جامعۃ القرویین سے فارغ لوگوں نے جو ایجادات گھڑی وغیرہ کی کیں، اُن ایجادات کے نمونے بھی وہاں پر موجود ہیں۔ آپ تیسری صدی ہجری تصورکیجیے۔ یہ تیسری صدی ہجری کی یونیورسٹی ہے۔ اس میں اسلامی علوم کے بادشاہ بھی پیدا ہوئے
اور وہیں سے ابن رُشد فلسفی بھی پیدا ہوا اور وہیں سے بڑے بڑے سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دین اسلام کا فرضِ عین علم سب کو اکٹھا دیا جاتا تھا۔ اُس کے بعد اگر کوئی علمِ دین میں تخصصات حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ اسی جامعۃ القرویین میں علم دین کی درس گاہوں میں پڑھتا۔ اگر کوئی ریاضی پڑھانے والا ہے تو وہ ریاضی بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ اگر کوئی طب پڑھانے والا ہے تو وہ طب بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ یہ سارا کا سارا نظام اس طرح چلا کرتا تھا۔ جامعۃ القرویین کی طرح جامعہ زیتونہ تیونس اور جامعۃ الازہر مصر کا نظامِ تعلیم بھی رہا۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں ہمارے قدیم ماضی کی ہیں۔ ان میں دینی اور عصری تعلیم کا سلسلہ اس طرح رہا۔
اس میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر قاضی عیاضؒ جو حدیث اور سنت کے امام ہیں، اُن کا حلیہ دیکھا جائے اور ابن خلدون جو فلسفہ تاریخ کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے، دونوں کو دیکھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ یہ دین کا عالم ہے اور وہ دنیا کا عالم ہے۔ دونوں کا حلیہ، لباس، ثقافت، طرزِ زندگی، طرزِ کلام سب یکساں تھا۔ اگر آپ مشہور اسلامی سائنسدان فارابی، ابن رُشد، ابوریحان البیرونی ان سب کا حلیہ دیکھیں اور جو محدثین، مفسرین اور فقہاء پیداہوئے اُن کا حلیہ دیکھیں، دونوں کا حلیہ ایک جیسا نظر آئے گا۔ اگر وہ نماز پڑھتے تھے تو یہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ اگر اُن کو نماز کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ اگر اُن کو روزے کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جو ہر انسان کے ذمے فرضِ عین ہیں، اُس دور میں ہر انسان جانتا تھا اور اس یونیورسٹی میں اُس کو پڑھایا جاتا تھا۔۔ تفریق یہاں سے پیداہوئی کہ انگریز نے آکر باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسا نظامِ تعلیم جاری کیا کہ اس سے دین کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ اُس وقت ہمارے اکابرین مجبور ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے دین کے تحفظ کے لیے کم از کم جو فرضِ کفایہ ہے، اُس کا تحفظ کریں۔ اُنہوں نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا جس نے الحمدللہ! وہ خدمات انجام دیں جس کی تاریخ میں نظیر ملنامشکل ہے، لیکن یہ ایک مجبوری تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی جو جامعۃ القرویین میں تھی، جو جامعہ زیتونہ میں تھی، جو جامعۃ الازہر کے ابتدائی دور میں تھی۔ اصل حقیقت وہ تھی۔ اگر پاکستان صحیح معنی میں اسلامی ریاست بنتا اور صحیح معنی میں اس کے اندر اسلامی احکام کا نفاذ ہوتا تو پھر اُس صورت میں ہمیں بقول حضرت والد ماجدؒ کے نہ علیگڑھ کی ضرورت تھی، نہ ندوہ کی ضرورت تھی، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت تھی، ہمیں جامعۃ القرویین کی ضرورت ہے، جامعہ زیتونہ کی ضرورت ہے اور ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس میں سارے کے سارے علوم اکٹھے پڑھائے جائیں۔ سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں، چاہے وہ انجینئر ہو، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، چاہے کسی بھی شعبۂ زندگی سے وابستہ ہو، وہ دین کے رنگ میں رنگا ہوا ہو، لیکن ہم پر ایسا نظامِ تعلیم لاد دیا گیا جس نے ہمیں سوائے ذہنی غلامی کے سکھانے کے اور کچھ نہیں سکھایا۔ اُس نے ہمیں غلام بنایا۔ اکبر الٰہ آبادی نے صحیح کہا تھا ؎
اب علیگڑھ کی بھی تم تمثیل لو
اب معزز پیٹ تم اُس کو کہو
صرف پیٹ بھرنے کا ایک راستہ نکالنے کے لیے انگریز یہ نظامِ تعلیم لایا اور اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور پورا ورثہ تباہ کردیا گیا۔
نتیجہ یہ کہ آج اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے زبردست دو فرق واضح طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضِ عین کا بھی معلوم نہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طالب علم جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین میں فرض کیا ہے؟ دوسرے اُن کے اوپر افکار مسلط کردیے گئے ہیں کہ اگر عقل اور ترقی چاہتے ہو تو تمہیں مغرب کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تیسری ان کی ثقافت بدل دی گئی۔ ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ اگر اس دنیا میں ترقی چاہتے ہو تو صرف مغربی اَفکار میں ملے گی، مغربی ماحول میں ملے گی، مغربی انداز میں ملے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نئے نظامِ تعلیم سے جو گریجویٹس، ڈاکٹرز یا پروفیسرز بن کر پیدا ہوتے ہیں، وہ ہم جیسے طالب علموں پر تو روز تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا، یہ اجتہاد نہیں کرتے۔ قرآن و سنت اور فقہ میں ’’اجتہاد‘‘ ایک عظیم چیز تھی، لیکن ایک ایسی چیز جس میں اجتہاد کا دروازہ چاروں طرف چوپٹ کھلا ہوا تھا، وہ تھی سائنس اور ٹیکنالوجی، ریاضی، علومِ عصریہ اس میں تو کسی نے اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کیا۔ علیگڑھ کے اور اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو مغرب کے سائنسدانوں کا مقابلہ کرتے۔ اُس میں آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو اجتہاد کرکے طب، فلکیات، ریاضی، سائنس وغیرہ میں نئے راستے نکالتے۔ اجتہاد کا دروازہ جہاں چوپٹ کھلا تھا وہاں کوئی اجتہاد کیا ہی نہیں، اور جہاں قرآن و سنت کی پابندی ہے اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کرنا ہوتا ہے، وہاں شکایت ہے کہ علمائے کرام اجتہاد کیوں نہیں کرتے؟
ابھی کچھ دن پہلے کسی صاحب نے ایک کلپ بھیجا جس میں ایک عالم دین سے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ مولانا! یہ بتائیے کہ علمائے کرام کی خدمات ویسے اپنی جگہ ہے، لیکن یہ کیا بات ہے کہ علمائے کرام میں کسی طرف سے بھی کوئی سائنسدان پیدا نہیں ہوا، کوئی ڈاکٹر پیدا نہیں ہوا، کسی بھی طرح کی ایجاد نہیں ہوئی، اس کا علمائے کرام کے پاس کیا جواب ہے؟ بندئہ خدا! یہ سوال تو آپ اپنے آپ سے کرتے کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں کوئی ایسا مجتہد پیدا ہوا جس نے کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ لیکن وہاں تو اجتہاد کے دروازے اس طرح بند ہیں کہ جو انگریز نے کہہ دیا، مغرب نے کہہ دیا بس وہ نظریہ ہے، اُس نے جو دواء بتادی وہ دواء ہے، اُس نے اگر کسی چیز کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے تو اس کی اقتداء کرتے ہیں۔ انڈے کی زردی کے بارے میں سالہاسال سے کہا جارہا تھا کہ یہ کولیسٹرول پیدا کرتی ہے اور امراضِ قلب میں مضر ہوتی ہے، لیکن آج اچانک ہر ڈاکٹر یہ کہہ رہا ہے کہ انڈے کی زردی کھائو، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ مغرب سے یہ پیغام آگیا ہے، اُسے آپ نے قبول کرلیا ہے۔
ہمارے ملک میں بے شمارجڑی بوٹیاں لگی ہوئی ہیں، اُس پر آپ نے کبھی تحقیق کی ہوتی، اُس سے آپ نے کوئی نتیجہ نکالا ہوتا کہ فلاں جڑی بوٹی ان امراض کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے فوائد بیان فرمائے تھے، اُس پر کوئی تحقیق کی ہوتی۔ وہاں تو اجتہاد کا دروازہ ٹوٹل بند ہے اور اُس میں کوئی تحقیق کا راستہ نہیں، اور جو قرآن و سنت کی بات ہے اُس میں اجتہاد کا مطالبہ ہے۔ یہ ذہنی غلامی کا نظام ہے جس نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا۔ دوسرا یہ کہ تصورات بدل گئے۔ پہلے علم کا تصور ایک معزز چیز تھی جس کا مقصد معاشرے اور مخلوق کی خدمت تھی، یہ اصل مقصود تھا۔ اس کے تحت اگر معاشی فوائد بھی حاصل ہوجائیں تو ثانوی حیثیت رکھتے تھے، لیکن آج معاملہ الٹا ہوگیا، علم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ علم کا مقصد یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرو کہ لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکال سکو۔ تمہارا علم اس وقت کارآمد ہے کہ جب تم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکو۔ آپ دیکھیں کہ موجودہ دور میں کتنے لوگ پڑھ رہے ہیں اور گریجویشن کررہے ہیں، ماسٹر ڈگریاں لے رہے ہیں، قسما قسم کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، اُن کے ذہن سے پوچھا جائے کہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ کیریئر اچھا ہو، اچھی ملازمتیں ملیں، پیسے زیادہ ملیں۔ تعلیم کی ساری ذہنیت بدل کر یہ تبدیلی کردی کہ علم کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ عالم حاصل کرکے معاشرے یا مخلوق کی کوئی خدمت انجام دینی ہے، اس کا کوئی تصور اس موجودہ نظامِ تعلیم میں نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص پیسے کمانے کی دوڑ میں مبتلا ہے اور اُس کو نہ وطن کی فکر ہے، نہ ملک و ملت کی فکر ہے اور نہ مخلوق کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن رات اسی دوڑ دھوپ میں مگن ہے کہ پیسے زیادہ بننے چاہیے۔ اُس کے لیے چوری، ڈاکہ، رشوت و ستانی وغیرہ کے ناجائز ذرائع بھی استعمال کرتا ہے۔
یہ بتائیے! موجودہ نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ یہاں تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مخلوق کی کتنی خدمت کی؟ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا؟ ہمیں تو پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تلقین فرمائی تھی: ’’اَللّٰھُمَّ لَاتَجْعَلِ الدُّنْیَا أَکْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا غَایَتَ رَقْبَتِنَا‘‘… ’’یااللہ! دنیا کو ہمارے لیے نہ تو ایسا بنائیے کہ ہمارا ہر وقت دھیان دنیا ہی کی طرف رہے اور نہ ہمارے علم کا سارا مَبلغ دنیا ہی ہوکر رہ جائے، اور نہ ہماری ساری رغبتوں اور شوق کا مرکز دنیا ہوکر رہ جائے۔‘‘ لیکن اس نظامِ تعلیم نے کایا پلٹ دی۔
حضرت والا ماجد مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے جو بات فرمائی تھی اُس کا منشاء یہ تھا کہ انگریز کی غلامی کے بعد جو تعلیم کی کایا پلٹی گئی ہے، اُس کایا کو دوبارہ پلٹ کر اُس راستے پر چلیں جو راستہ جامعۃ القرویین نے دکھایا، جو جامعہ زیتونہ نے دکھایا، جو ابتدائی دور میں جامعۃ الازہر نے دکھایا۔ میں ابتدائے دور کی بات اس لیے کررہا ہوں کہ آج جامعہ ازہر کی بھی کایا پلٹ چکی ہے، اسی لیے ابتدائی دور کی بات کررہا ہوں۔ ہمارے یہاں حکومتی سطح پر وہ نظام تعلیم نافذ نہیں ہوسکا، لہٰذا مجبوراً کم از کم دارالعلوم دیوبند کے نظام کا تحفظ تو ہو۔ الحمدللہ! اسی غرض سے مدارس قائم ہوئے۔ جب تک ہمیں حکمرانوں او رنظامِ حکومت پر اور اُن کے بنائے ہوئے قوانین پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ مستقبل قریب میں کوئی بھروسہ ہونے کی امید ہے، اس لیے اُس وقت تک ہم اِن مدارس کا پورا تحفظ کریں گے۔ مدارس کو اسی طرح برقرار رکھیں گے جس طرح ہمارے اکابر نے دیوبند کی طرح برقرار رکھا۔ اس کے اوپر ان شاء اللہ کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ رفتہ رفتہ یہ قوم اُس طرف بڑھے جو ہمارا ابتدائی مطمح نظر تھا۔ اسی سلسلے میں حرا فائونڈیشن کی یہ چھوٹی سی پریذینٹیشن تھی۔
اس میں رئیس الجامعہ کا چھوٹا سا خطاب تھا اور میں بھی اسے ہر جگہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ الحمدللہ! پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد بقدرِ ضرورت اچھی خاصی ہوگئی، لیکن سارے مدارس فرضِ کفایہ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اگر ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کا تناسب پورے ملک کے حساب سے دیکھا جائے تو مشکل سے ایک فیصد ہوگا، لیکن ننانوے فیصد قوم جن اداروں میں جارہی ہے اور جس طرح وہ انگریزوں کی ذہنی غلام بن رہی ہے، اس تعداد کا آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔
میں یہ بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور کہتا رہتا ہوں کہ آپ کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کے لیے ہماری اس نسل کو اس انگریز کی ذہنی غلامی سے نکالیے۔ آپ کو یہ تاثر دینا ہے کہ الحمدللہ! ہم ایک آزاد قوم ہیں، ہم ایک آزاد سوچ رکھتے ہیں، ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ رکھتے ہیں اور یہ جو ذہنی غلامی کا تصور پالا گیا ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ مغرب سے آئے گا اور ہم مغربی افکار پر پروان چڑھیں گے، خدا کے لیے اس نئی نسل کے ذہنوں سے یہ چیز مٹائیے اور ان کے اندر اسلامی ذہنیت پیدا کیجیے۔ ہم نے اسی مقصد کے لیے یہ ادارہ قائم کیا۔ مغرب کی بھی ہر بات بری نہیں ہے، کچھ چیزیں اچھی بھی ہیں، لیکن اُن اچھی چیزو ںکو لے لو اور بری چیزوں کو پھینک دو، ’’خُذْ مَاصَفا وَدَعَ ماکدر‘‘ اس اصول کے اوپر اگر کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔
اقبال مرحوم نے بعض اوقات ایسے حسین تبصرے کیے ہیں کہ وہ قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مغرب کی ترقی جو کہیں سے کہیں پہنچی ہے اُس پر تبصرہ کرتے ہوئے چند شعر کہے ہیں، وہ ہمیشہ یاد رکھنے کے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؎
قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب
چنگ و رباب یعنی موسیقی کے آلات۔ مغرب کی قوت اس لیے نہیں ہوئی کہ وہاں موسیقی کا بڑا رواج ہے، نہ اس وجہ سے ہوئی کہ بے حجاب اور بے پردہ عورتیں رقص کرتی ہیں۔
نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے ز قطع موست .
نہ اس وجہ سے ہوئی کہ وہاں حسین عورتیں بہت پھرتی ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ٹانگیں ننگی کر رکھی ہیں اور اپنے بال دراز کر رکھے ہیں۔
قوتِ مغرب از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
قوت اگر ہوئی ہے تو علم و فن میں محنت کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اسی آگ سے اُس کا چراغ روشن ہے۔ اور پھر آخر میں بڑا خوبصورت شعر کہا ہے کہ
حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست
یعنی حکمت و علم کپڑوں کی قد و برید یا تراش و خراش سے حاصل نہیں ہوتا۔ کسی نے پتلون پہن لی تو ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوگئے۔ اگر شلوار قمیص پہن لی تو پسماندہ ہیں، ترقی پسند نہیں ہیں۔ اگر عمامہ پہن لیا تو اُس سے علم و ہنر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، لیکن تم نے چند جواہر کو یہ سمجھا ہوا ہے کہ مغرب کو اُس سے قوت حاصل ہوئی ہے اور اُس کے نتیجے میں اپنی نسلوں کو اُس کے پیچھے چلاکر تباہ کررہے ہو، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچائو۔ یہ ہے حرا فائونڈیشن اسکول۔ الحمدللہ! دوسری جگہو ںپر یہ توجہ عام ہوئی ہے اور بھی اسکول قائم ہورہے ہیں۔ جن کا اصل مقصود یہ ہے کہ ہم واپس اُس نظام تک لوٹیں ؎
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
کوئی کہے گا کہ یہ رِجعت پسندی ہے، لیکن اقبال جیسا ترقی پسند شاعر کہتا ہے کہ ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو‘‘ یعنی ہم اُس طرف دوڑیں جو جامعۃ القرویین کی بات تھی، جو جامعہ زیتونہ کی بات تھی، ہم اُس طرف دوڑیں۔ ہم نے اس غرض کے تحت یہ ادارہ اللہ کے نام پر قائم کیا۔ حضرت والد ماجد صاحبؒ کے ارشاد کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔
ابھی فی الحال آپ نے اس کی جھلکیاں دیکھی ہیں، لیکن الحمدللہ ثم الحمدللہ! اس قلیل عرصے میں اللہ تعالیٰ نے ترقی کے بہت سے منازل طے کروائی ہیں۔ سچی بات ہے کہ میرے بیٹے ہیں، نہیں کہنا چاہیے، مگر مولانا اشرف عثمانی نے خصوصی توجہ اور دن رات کھپاکر انتہائی عرق ریزی اور دیدہ ریزی کے ساتھ ان حضرات نے بڑی محنت کرکے اس ادارے کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے، جس کے کچھ تھوڑے سے نتائج آپ نے دیکھے ہیں۔
اسے ہم نے مجبوراً انگریزی میڈیم میں رکھا ہے، ورنہ تعلیم مادری زبان ہی میں ہونی چاہیے، مگر چونکہ یہاں ایک وباء چل پڑی اور اس واسطے ہمیں ان خاندانوں کو Attract کرنا ہے جو اپنے بچوں کو اُس نظامِ تعلیم میں بھیجتے ہیں، اس لحاظ سے ہم نے اسے انگلش میڈیم رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حفظ اور عربی کی کلاسیں بھی ہیں۔ اردو کو بھی ایک اچھے مقام کے ساتھ پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہماری نیتوں میں بھی اخلاص پیدا فرمائے، ہمارے طریقِ عمل میں بھی اللہ تعالیٰ سلامتی عطا فرمائے اور ہر طرح کے شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رضاء کے مطابق اس معاملے کو آگے بڑھانے کی توفیق عطافرمائے۔منقول

7
سیاسی تجزیہ کار / سیاسی اکھاڑا
« بروز: جولاي 06, 2017, 03:49:47 ش »
سیاسی اکھاڑا
کوئی پسند کرے یا نہیں زمینی حقائق بہرحال وہی ہوتے ہیں جو ہوتے ہیں۔ مریم کی تلوار مخالفین کے دلوں میں کافی عرصے سے کھٹک رہی تھی۔ عمران خان کی نظر میں وہ اس کے اقتدار کی راہ کا بڑا پتھر ہو سکتی ہے سو اس کا اقرار اس نے بہت پہلے ہی کر لیا۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت جس تواتر اور شد و مد سے مریم کو ایک عرصے سے ہدفِ تنقید بناتی رہی ہے اس نے ایک تو ان کی اس پریشانی کو عیاں کیا اور دوسرا مریم کو سیاسی شناخت دینے میں مدد کی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کی سیاسی مہم وہی چلاتا ہے جو آپ کا سب سے بڑا مخالف ہو۔ رہی سہی کسر جے آئی ٹی نے پوری کر دی۔ محترمہ بظاہر تو پیشی پر آئی تھیں لیکن اصل میں اپنی دبنگ سیاسی انٹری ڈال گئی ہیں۔ یقیناً مریم کا یہ سین ایک سکرپٹ کے تحت تھا اور سنجیدہ سیاسی قوتیں ایسے کام بہت سوچ بچار کے بعد اور سکرپٹ کے مطابق ہی کرتی ہیں تا کہ فی البدیہہ کی قباحتوں سے بچا جا سکے۔ خان صاحب اکثر فی البدیہہ پر اعتماد کرتے ہیں اس لیئے ان کے راستے میں یو ٹرن لاتعداد ہوتے ہیں۔ میاں صاحب نے تو عرصہ ہوا سکرپٹ پر چلنا عادت بنا لیا اس لیئے پرچی کے بغیر نہیں بولتے۔ یہ الگ بات ہے کہ غلطیاں تو پھر بھی ہو جاتی ہیں لیکن کم از کم یہ غلطیاں فرد واحد کی نہیں ہوتی ہیں اور سوچ سمجھ کر ٹیم ورک کے تعاون سے ہوتی ہیں۔
بات ہو رہی تھی سیاسی لانچنگ کی تو حال ہی میں ایک سیاسی لانچنگ بلاول کی بھی دیکھنے میں آئی۔ بہت عرصہ یاروں نے اٹھک بیٹھک، لہجے، تاثرات، اور ڈائیلاگ کی ادائیگی پر محنت کی۔ اچھے اچھے سکرپٹ بھی لکھ کر دئیے لیکن راکٹ زمین پر ہی شوں شوں کرتا رہ گیا۔ کچھ کا خیال ہے کہ فضا میں بلند ہوا چاہتا ہی تھا کہ زرداری نے پلگ کھینچ لیا۔ بہرحال جو بھی وجہ بنی ہو بلاول کی لانچنگ ہو نہیں پائی۔ اب یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ پیپلز پارٹی سیاسی نابالغ ہے اور اپنے سیاسی راکٹ کو ٹھیک سے تیار نہیں کر پائی۔
اگر بلاول کی لانچ کو مدِ نظر رکھیں تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ مریم کی لانچنگ کافی بہتر رہی۔ آج کی سیاست میں فرنٹ مین ہی سب کچھ نہیں ہوتا اس لیئے یہ سوچنا کہ اگر مریم کل نون کی مرکزی لیڈرشپ سنبھالتی ہے تو وہ اس کی ذہنی طور پہ اہل ہے بھی کہ نہیں شاید ٹھیک طرزِ فکر نہ ہو۔ اس کا کام سکرپٹ کو ٹھیک سے نبھانا ہی ہو گا، سکرپٹ لکھنے والے لوگ پسِ پردہ ہوتے ہیں۔ اگر نون کی کچن کیبنٹ والا طریقہ ہی جاری رکھا گیا تو اس تبدیلی سے پالیسی لیول پر تو کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی البتہ پاکستانی سیاست کو ایک فریش ، دلکش اور قابلِ توجہ چہرہ ضرور مل جائے گا۔
رہے خان صاحب تو ان کا کام اور مشکل ہو جانا ٹھہر گیا ہے۔ قسمت کی بات ہے کہ انہیں جتنی جلدی ہے رکاوٹیں اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہیں۔ ویسے اپنی سیاست کے سب سے بڑے دشمن خانصاحب خود ہی ہیں۔ ان کے لیئے کامیابی کا راستہ انقلابی رستہ ہی تھا۔ مروجہ سیاسی دروازوں میں ان کے لیئے گنجائش نہیں۔ بدقسمتی سے انہوں نے مروجہ سیاسی دروازوں کے راستے داخلے کو اپنی ترجیح بنایا۔ یہ شارٹ کٹ ان کے کام آتا دکھائی نہیں دیتا۔ قلیل المدتی ناکامی بھی عیاں ہوتی چلی جارہی ہے اور طویل مدتی منصوبے جھوٹ اور منافقت کی بنیادوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ آپ لوٹے لفنگے اکٹھے کر کے اور کچھ بھی بنا لیں ایک نیا انقلابی پاکستان نہیں بنا سکتے۔ جن لوگوں کو یہ خوشفہمی ہے کہ نکمی ٹیم سے کپتان صاحب فاتحانہ سیاسی انگز کھیل سکتے ہیں انہیں شاید تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ ٹاس جیت سکتے ہیں اور اب تو اس کا امکان بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے، اچھی اننگز کھیلے کا تو تصور بھی مشکل ہے۔

8
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی باہم ملاقات اپنی نوعیت اور تاثر کے اعتبار سے سراسر ایک منفرد واقعہ ہے۔ حضرت موسیٰؑ صاحب شریعت پیغمبر تھے۔ ایک موقع پر انہیں باطنی احوال (اسرار کونیہ) جاننے کا شوق ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ملاقات ایک ایسی ہستی سے کرائی، جس کے سپرد باطنی معاملات تھے۔ قرآن مجید میں اس ہستی کا نام مذکور نہیں ہے، البتہ احادیث اور تفاسیر میں اس کا نام خضرؑ بتایا گیا ہے۔
حضرت خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا:آپ میرے ساتھ چلتے ہوئے جو معاملات دیکھیں گے، اس پر خاموش نہیں رہ سکیں گے، سوال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ حضرت موسیٰؑ نے خاموش رہنے کا وعدہ کیا، لیکن جب انہوں نے پے در پے تین عجیب و غریب واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تو ہر بار مُہر سکوت توڑنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ نے مل کر ایک کشتی میں سفر کیا۔ دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچنے کے بعد خضرؑ نے اس اچھی بھلی کشتی کا ایک کونا توڑ کر اسے ناقص کر دیا۔ دوسرا واقعہ یہ تھا کہ ایک مقام پر کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ خضرؑ نے آگے بڑھ کر ایک بچے کو پکڑا اور اسے موت کی نیند سلا دیا۔ ظاہر ہے یہ شرعی طور پر گناہ کبیرہ کا ارتکاب تھا۔ تیسرا واقعہ یہ تھا کہ موسیٰؑ اور خضرؑ نے ایک بستی کے مکینوں سے کھانا طلب کیا تو کسی نے بھی ان کے سوال کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ اچانک ایک شکستہ دیوار دکھائی دی جو معمولی سے دھکے سے گر سکتی تھی۔ خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا: آئیے ہم یہ دیوارتعمیر کر دیں، چنانچہ دونوں اصحاب نے وہ دیوار از سر نو کھڑی کر دی۔ حضرت موسیٰ کے لئے یہ تیسرا واقعہ بھی بہت انوکھا تھا، ضبط نہ کر سکے اور اس کا مفہوم پوچھنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا: اب آپ مزید میرے ساتھ نہیں چل سکیں گے، البتہ جدا ہونے سے پہلے مَیں ان واقعات کا پس منظر واضح کر دیتا ہوں۔
 وہ کشتی جن لوگوں کی تھی، وہ اس کے ذریعے مسافروں کو دریا کے آر پار لے جا کر مزدوری حاصل کرتے تھے۔ یہ ان کی کمائی کا واحد ذریعہ تھی۔ کشتی بہت اچھی حالت میں تھی۔ دریا کے پار ایک ظالم بادشاہ کی حکومت تھی۔ وہ ان غریب لوگوں سے یہ کشتی چھین لیتا۔ مَیں نے اسے ناقص کر دیا تاکہ وہ کسی حکومتی کارندے کی نظر میں نہ آئے۔ اسے ناکارہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دے۔ جس بچے کو ٹھکانے لگا دیا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے نیک والدین کی رسوائی کا باعث بنتا، اب اللہ تعالیٰ ان کو اس کا نعم البدل عطا کریں گے جو ان کے لئے باعثِ رحمت و برکت بنے گا۔جو دیوار گرا چاہتی تھی، اس کے نیچے دراصل کچھ یتیموں کا خزانہ دبا ہوا تھا۔ دیوار گر جاتی تو لوگ وہ خزانہ لوٹ لیتے۔ اب دیوار کی تعمیر نو سے وہ خزانہ اس وقت تک محفوظ رہے گا، جب تک اس کے وارث بچے بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچ جاتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قصے کا مقصد انسانوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ ایک یہ دنیا ہے جس میں تم رہتے بستے ہو۔ شرعی اصول و قوانین اسی ظاہری دنیا کے معاملات کو سنوارنے کے لئے متعین کئے گئے ہیں، لیکن یہ نہ بھولو کہ اس ظاہری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک دوسری دنیا بھی ہے جو تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ اس کے اپنے قاعدے، ضابطے ہیں، جنہیں جاننے کے تم مکلف نہیں ہو۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو اس پر صبر اختیار کرو اور اللہ سے دعا کرو کہ اس تکلیف کے نتائج تمہارے لئے مفید بنا دے۔ اگر خوشی ملتی ہے تو اس پر فخر اور غرور میں مبتلا نہ ہو جاو¿۔
مجھے اس واقعہ کے حکیمانہ پہلوو¿ں پر غور و خوض کرنے کے لئے کئی اردو تفاسیر دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ان میں زیادہ تر یہی بحث ملتی ہے کہ خضر ؑکون تھے، وہ نبی تھے یا غیر نبی، انسان تھے یا فرشتہ، خضر نام کی ایک ہی ہستی ہے یا ایسے کئی خضر نظام ہستی چلانے کے لئے مامور ہیں۔ کیا انہیں موت آسکتی ہے؟.... تشریعی اور تکوینی امور کیا ہوتے ہیں اور تکوینی امور تشریعی امور سے کس طرح مختلف ہیں؟ علمائے تفسیر نے اس حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے، لیکن اس طرف دھیان نہیں دیا کہ اس میں اجتماعی زندگی کے بارے میں بھی بہت فکر آفریں حکمتیں پوشیدہ ہیں، چونکہ ہمارے علمائے کرام ہماری آج کے دور کی پیدا کردہ اُلجھنوں اور پیچیدگیوں کونہیں سمجھتے، اس لئے انہوں نے صرف قصے کی غرابت بیان کرنے تک بحث محدود رکھی ہے۔
میرا خیال یہ ہے کہ اس قصے کی حیثیت علامتی ہے۔ اس میں جس ظالم بادشاہ اور کشتی کے جن غریب مالکان کا ذکر ہُوا ہے، وہ آج کی دنیا میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں بادشاہوں کو ہوس ملک گیری بے چین رکھتی تھی۔ وہ آئے روز ہمسایہ ریاستوں پر چڑھائیاں کرتے رہتے تھے، مقصد مال و دولت لُوٹنا ہوتا تھا۔ اپنے لاو¿ لشکروں کے لئے انہیں کشتیوں کی بھی ضرورت پڑتی تھی۔ جب ان بادشاہوں کے کارندے رعایا میں سے کسی کے پاس صاف ستھری اور مضبوط کشتی دیکھتے تو اس سے چھین لیتے تھے۔ جس سے کشتی چھینتے تھے، اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ آج کی حکومتوں کا کردار اس سے مختلف نہیں۔ وہ اپنے دفتری ٹھاٹھ اور مراعات کے لئے عوام پر بھاری ٹیکس لگاتی ہیں۔ حکومتی کارندوںکے اختیار میں بے شمار رقوم ہوتی ہیں، جنہیں وہ جب چاہتے اور جہاں چاہتے ہیں، خرچ کرتے ہیں۔ انہیں آڈٹ کے شکنجوں سے بچے رہنے کے بے شمار گُر معلوم ہوتے ہیں، بلکہ کروڑوں کے فنڈ کا آڈٹ ہو ہی نہیں سکتا۔ ملازمتیں انہیں دیتے ہیں، جن کی تکڑی سفارش ہوتی ہے، جو انہیں رشوت نہ دیں، انہیں ملازمتوں سے نکال باہر کرتے ہیں۔ اس طرف قطعاً دھیان نہیں دیا جاتا کہ اس اندھے اقدام سے کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ آج کی حکومتوں نے ریاستی نظام کو ایسے اصول و قوانین کے تحت مستحکم کر رکھا ہے کہ جن کی وجہ سے غریب اور بے وسیلہ آدمی کو کسی طرف سے بھی انصاف ملنے کی امید نہیں ہوتی ۔ اپنے حق کے لئے وہ عدالتوں میں جاتا ہے تو وہاں سالوں تک ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ بعض اوقات فیصلہ آنے تک وہ قبرستان جا پہنچتا ہے۔ ہمارے علمائے دین یہ نہیں بتاتے کہ آج کی حکومتیں بھی اپنے خزانے بھرنے کے لئے اپنی رعایا سے بہت کچھ چھین لیتی ہیں۔
خضرؑ کے ہاتھوں بچے کی موت کا واقعہ بھی قابل غور ہے۔ اس میں بلاشبہ مصیبت آنے پر صبر اختیار کرنے کا درس دیا گیا ہے، لیکن آج اگر کسی ہسپتال میں کوئی بچہ ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپروائی سے لقمہءاجل بن جاتا ہے تو کیا اس پر والدین خاموشی سے میت اٹھا کر ہسپتال سے باہر نکل جائیں؟.... موت کو امر ربی ماننا تو چاہئے، لیکن اگر کسی کی سنگدلی اور بے رحمی سے کوئی شخص زندگی کی نعمت سے محروم کر دیا جاتا ہے توکیا اسے اس پر قانون کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا چاہئے۔ کسی کی زندگی سے کھیلنے والے کو کیا اس کی سزا نہیں ملنی چاہئے؟
تیسرے واقعے میں میرے نزدیک مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ غریبوں، یتیموں اور بے وسیلہ لوگوں کی جان اور مال کی حفاظت کریں۔ یہ کام حکومتیں بھی انجام دیں اور فلاحی تنظیمیں بھی۔ خضرؑ نے یوں ہی اس خدشے کا اظہار نہیں کیا کہ دیوار گرنے سے دبا ہوا خزانہ ظاہر ہو جاتا اور لوگ اسے لُوٹ لیتے۔ ہماری آج کی نام نہاد مہذب دنیا کے سٹیج پر یہ ڈراما روزانہ رونما ہوتا ہے۔ باپ، بیٹیوں کو جہیز کا بہانہ بنا کر وارثت سے محروم کر دیتے ہیں۔ بیواو¿ں اور یتیموں کی زمینوں اور وسائل زندگی پر قبضے کی وارداتیں تو گلی گلی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ میرے نزدیک دیوار سے مراد قانون ہے جو غریب غرباءکو تحفظ دے سکتا ہے۔ اگر اسے طاقت فراہم کی جائے تو غریبوں کے وسائل زندگی پر کوئی با اثر شخص قبضہ کرنے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔
تفاسیر کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ مجھے جمعہ کے خطبوں اور قرآن مجید کے درسوں میں بھی یہ واقعہ سننے کا اتفاق ہوا، مگر کسی عالم دین نے ان پہلوو¿ں کی طرف کبھی توجہ نہیں دلائی۔ مَیں نے اس قصے کی جدید زندگی کے تناظر میں جو تشریح پیش کی ہے، اگر کسی قاری کو اختلاف ہو تو وہ براہ کرم مجھے آگاہ کرے، مَیں ممنون ہوں گا۔

از خالد ہمایوں ٭

9
سیاسی تجزیہ کار / میرا سیاسی سفر از عباس بیگ
« بروز: جولاي 01, 2017, 05:46:50 ش »
 میں اس کالم کے ذریعے اپنے بہت سے نئے دوستوں کو اپنے سیاسی سفر کی بابت بتانا چاہتا ہوں تا کہ انھیں میری مختصر اور ہلکی پھلکی تحریروں کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔

ایک غیر سیاسی لیکن روایتی طور پر مسلم لیگ کی طرف رحجان رکھنے والے خاندان میں آنکھیں کھولنے کے بعد جب میری اپنی سیاسی آنکھ کھلی تو جلد ہی میں سرخ انقلاب کی طرف جانے والی پگڈنڈیوں سے ہوتا ہوا میں اسلامی انقلاب کے داعیان کے دالان میں آن آکھڑا ہوا۔

میں بھی بہت سارے اہل فکرونظر کی طرح اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ پاکستان کو مطلوب و مقصود تبدیلی، مروجہ انتخابی نظام اور موجود دو بڑی پارٹیوں یعنی پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے طرز ہائے سیاست سے نہیں آ سکتی۔

پھر چلتے چلتے اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر ایک طرف الیکشن سے بات نہیں بن رہی تو دوسری طرف انقلاب کے در آنے کے بھی امکانات کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔

جب 1999میں پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو اندرونی اور بیرونی اسٹیبلشمنٹس کے حوالے سے میرے خیالات میں تیزی سے نکھار آنا شروع ہو گیا۔ وہی دو بڑی پارٹیاں جو مجھے پاکستان میں سب خرابیوں کی وجہ کبیر لگتی تھیں اب ان کے ساتھ ہمدردی سی پیدا ہونے لگی۔ تاہم چونکہ اس وقت تک میرے تصور کے گھوڑے انقلابی دریاوں کا پانی پی چکے تھے وہ نوازشریف یا بے نظیر صاحبہ کو اپنا سیاسی راہنما قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ ہو پا رہے تھے۔

جوں جوں عوام کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی زندگی پر مشرف پرویز کی آمریت کے منفی اثرات کا میرا تاثر گہرا ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پوزیشن/بیانات وغیرہ نے مجھے احساس دلایا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے کوئی شخص عوام کو ان کے غصب شدہ حقوق کچھ بہتر طریقے سے واپس دلا سکتا ہے تو وہ نوازشریف ہی ہے۔ موصوف کو جناب ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اس نےاپنے زہر آلود پنجوں سے پکڑ کر اگلے جہان تو نہ پہنچایا لیکن اسے معزول کر کے سعودی عرب بھجوا دیا۔

یقیناً مذکورہ بالا دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے علاوہ بھی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے سربراہان میں بشمول عمران خان ایسی شخصیات موجود تھیں جو مجھے اچھی لگتی تھیں لیکن ان کی اس خاص موقع پر انتخابات میں کسی خاطر خواہ کامیابی کا کوئی امکان نہ تھا اس لیے ان سے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کے توڑ کی امید رکھنا عبث تھا۔

یہی وہ وقت تھا جب مذکورہ دونوں بڑی کی کارکردگی سے مایوس لوگ عمران خان کی طرف سنجیدگی سے دیکھنے لگے اور میرا تاثر کہ دونوں بڑی پارٹیوں کے علاوہ کوئی تیسری پارٹی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، زائل ہونے لگا۔ میڈیا نے موصوف کو اتنا اوپر اٹھایا کہ مجھے اس میں ایک انقلابی کی جھلک نظر آنے لگی۔ میں جلد ہی اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستانی عوام کو اگر کوئی بندہ نوازشریف سے بھی بہتر کوئی ڈیل کے کر دے سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف “سونامی” کی قیادت کرنے والا راہنما ہی ہے۔

سیاسی سفر کے اس مقام پر پہنچ کر میں نے جلدی سے پاکستان تحریک انصاف میں باقاعدہ ممبرشپ حاصل کرلی۔ پارٹی کی تنظیم اور مالی معاونت کے لیے پرخلوص اور مقدور بھر کوشش کی۔ شاید میرے جذبے کی تڑپ ہی تھی کہ مجھے اپنے ممدوح و محبوب راہنما سے نہ صرف مصافحہ بلکہ معانقہ کا شرف نصیب ہوا۔

اگرچہ میری پارٹی کو 2013 کے انتخابات میں اتنی کامیابی تو نہ ہوئی کہ وہ حکومت بنا سکے لیکن اس کے حاصل کردہ ووٹوں کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا بھی لگتا تھا اور اپنی محنت کے ضائع ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔

میرا خیال تھا کہ ایک طرف جب پی ٹی آئی، کے پی میں اپنے بیان کردہ پروگرام کے مطابق اپنی کارکردگی دکھائے گی اور دوسری طرف میرا ہیرو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جب پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے پیدا ہوئے عوامی سیاست کرنے کے تاثر کے مطابق اپنا قائدانہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گا تو حکومت وقت مجبور ہوکر اتنے اچھے اچھے اقدامات کرے گی اور اس طرح پاکستان میں ترقی کی رفتار تیز ہوکر ہر طرف بہتری ہی بہتری نظر آئے گی۔ بصورت دیگر اگر میرے قائد کی کوششوں کے باوجود اگر موجودہ حکومت اپنی پیشرو حکومتوں سے واضح طور پر بہتر نہ ہوگی تو عمران خان کو 2018 کے انتخابات میں کامیاب ہوکر “نیا پاکستان” بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

عمومی طور پر الیکشن کے نتائج کو تسلیم کر لینے کے کچھ عرصہ بعد جب “چار سیٹوں کو کھولنے” کے نعرے کے تحت جب میری پارٹی نے تقریبا باقی سارے مسائل کو ایک طرف رکھ کر الیکشن دھاندلی پر اپنی توجہ مرکوز کر لی اور انتخابی سسٹم میں اصلاح کے اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا تو مجھے پارٹی کے معاملات اس طرح نظر آنے رک گئے جیسے دیکھ کر میں نے اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جوں جوں بات 2014 کے دھرنوں کی طرف جارہی تھی، (یاد رہے کہ طاہرالقادری صاحب نے بھی ایک دھرنے کا اعلان کر دیا تھا) میرے ذہن میں عمران خان کی سیاست کے بارے شکوک و شہبات بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ ہر آنے والا واقعہ مجھے پارٹی سے دور ہی دور لے کر جا رہا تھا۔ اس دوران حالات و واقعات کا اچھی طرح مطالعہ و مشاہدہ کرنے کے بعد میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اگرچہ یہ اپنے محبوب سے ترک تعلق ایسا معاملہ تھا اور دوسری وجہ اپنے پی ٹی آئی میں قریبی دوستوں کی ناراضگی کا احساس بھی اندر ہی اندر بہت تنگ کر رہا تھا۔ آخر وطن کا مفاد اور اس کے باسیوں کی محبت نے میری یاوری کی اور میں اپنے عمران خان اور پی ٹی آئی سے رومان سے باہر نکل آیا۔

اب میں نہ غیر سیاسی ہوں، نہ سرخ انقلابی ہوں، نہ میں سبز انقلابی ہوں اور نہ کسی پارٹی کا جیالا/متوالا/دیوانہ ہوں۔ بہرحال اس سب کچھ نہ ہونے کے باوجود میں اعلانیہ جانبدار ہوں، اور مجھے اس پر فخر بھی اور میری موجودہ حثیت میرے لیے بہت سکون اور عزت کا وسیلہ بھی ہے۔

میں اپنی جانبداری کی تھوڑی سی وضاحت کر دوں۔ میں پاکستان اور عوام کی جانب ہوں اور میرے سامنے جمہوریت، آزادی، مساوات، شرف انسانیت، رواداری ایسی اعلی اقدار ہیں جن کو بنیاد بنا کر میں پاکستان کے میدان سیاست میں اثرانداز ہونے والے مرئی اور غیرمرئی عوامل کا مطالعہ و مشاہدہ کرکے اپنی رائے بناتا ہوں اور اس کے جس حصے کا اظہار ممکن ہوتا ہے، کر دیتا ہوں۔ ظاہر ہے میرا اظہار اور طرز اظہار کسی کی موافقت میں نظر آتا ہے اور کسی کی مخالفت میں، اس لیے میں کسی کا محبوب ٹھہرتا ہوں اور کوئی مجھے مردود گردانتا ہے، شروع شروع میں کبھی کبھی الجھن سی اور اکیلا پن محسوس ہوتا تھا لیکن اب اپنے جیسی سوچ اور ذوق والے احباب کے ساتھ مل کر چلنے میں بہت مزہ ہے۔ اس لیے اب تو اپنا یہ سفر جاری ہے اور تادم مرگ جاری رہے گا۔

از عباس بیگ

10
سیاسی تجزیہ کار / علمی وفکری مباحثہ از عباس بیگ
« بروز: جولاي 01, 2017, 05:43:41 ش »
علمی وفکری مباحثہ ایک کھیل نہیں ہوتا جس میں ایک فریق جیتتا اور دوسرا ہارتا ہے۔ یہ تو مختلف نقطہ ہائے نظر اور انکی بنیادیں جاننے کی ایک مخلص کوشش ہوتی ہے تاکہ علم و آگہی کا سفر آگے سے آگے بڑھے۔

از عباس بیگ

11
جمہوریت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس سے معاشرے میں ایک افراتفری آتی ہے۔افراتفری کی بھی کئی اقسام ہیں۔ جب کسی بادشاہ یا فوجی آمر کے شکنجے میں طویل عرصہ تک جھکڑا ہوا ایک جامد وساکن معاشرہ اپنا سفر جمہوریت کی طرف کرتا ہے تو اس میں ایک ہلچل جسے آپ افراتفری بھی کہہ سکتے ہیں، پیدا ہوتی ہے لیکن وہ ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے۔ بہرحال جوں جوں اس معاشرہ میں جمہوری روایات اور رویے پختہ ہوتے جاتے ہیں توں توں امن اور خوشحالی اس معاشرے کا مقدر بنتا جاتا ہے۔
کسی بادشاہ یا فوجی آمر کا طاقت اور جبر کے ذریعے شہریوں کو چپ کا روزہ رکھوانا امن نہیں ہے یہ تو قبرستان والی خاموشی ہوتی ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ عوام کو بولنے کا موقعہ بھی ہو اور ان کو انکے حقوق بھی ملیں اور وہ پھر افرا تفری کی بجائے امن سے رہیں۔
شاید سعودی عرب اور برطانیہ کے معاشروں کا تقابلی مطالعہ پوسٹ کی مزید تفہیم کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 از عباس بیگ

12
سوال:- پاکستان میں اچھی قیادت کا فقدان کیوں یے؟
جواب:- پاکستان کو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اچھی قیادت کیونکر نصیب ہوتی! ہر فوجی آمر نے عوامی قیادت کی چھانٹی کا عمل جاری رکھا یعنی جس جس عوامی نمائندے نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اسے بڑے بڑے عہدوں اور فنڈز سے نوازا گیا اور جس جس نے اس کی حمایت سے انکار کیا اسے یا جان سے ہاتھ دھونے پڑے یا قیدوبند وغیرہ کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔
ہاں، جب کبھی اسٹیبلشمنٹ کی چھانٹی کے عمل سے گذرے عوامی لیڈر نے اپنے گلے سے اسکی تابعداری کا طوق اتار پھینک کر عوامی سیاست کرنے کی کوشش کی تو پھر اسے ایسا چھانٹا مارا جس سے وہ مر گیا یا ادھمویا ہو گیا۔ دیکھتے ہیں کہ اب کی بار بھی حسب سابق ہی چلتا ہے یا پاکستان آگے بڑھتا ہے!!!

 از عباس بیگ

13
“ ہیروں “ نے ساری زندگی ایک ہی کام کیا ۔۔۔۔ سازشیں
 
لیکن اب بھی یہ کام بھونڈے طریقے سے ہی کیا جا رہا ہے
کچھ لوگ جے آئی ٹی کو جھوٹی انصافی ٹولی کہہ رہے ہیں جس کے لئے سب سے شرم کی بات یہ ہے کہ اسے عمران جیسا ترجمان ملا ہے ۔ سونامی نابالغ اگر کسی اچھی چیز کی بھی تعریف کرے تو اس کی اچھائی پر شک ہونے لگتا ہے اور یہ تو ہے ہی ہماری تاریخ کی سب سے مشکوک اور مضحکہ خیز تحقیقاتی ٹولی جو ایک دن خود حقیقی تحقیقات کا نشانہ بن سکتی ہے ۔۔۔۔ انشا اللہ

آج ہم چار دلچسپ معاملات پر غور کریں گے اور اپنے دوستوں سے توقع کرتے ہیں کہ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے

پہلا معاملہ - واٹس ایپ کے ذریعے متعصب ممبران کی نامزدگی
عدالت نے سٹیٹ بینک اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کو سرکاری حکم نامے کے ذریعے ممبران کے نام تجویز کرنے کی ہدائت کی
اور پھر رجسٹرار نے واٹس ایپ کی پراسرار کال کے ذریعے سازشی انداز میں ان اداروں سے ایسے مخصوص متعصب افسران کے نام تجویز کرنے کو کہا جو واضع طور پر ہمارے منتخب وزیر آعظم کے خلاف ہیں
ان متعصب افراد میں سے ایک تو پہلے بھی ایک غیر قانونی دور حکومت میں وزیراعظم کے خلاف تحقیقات میں مصروف رہا ہے اور دوسرے کا خاندان شائد دھرنے کی شاموں کا شوقین رہا ہے اور انتخابات میں سونامی ٹکٹ کا تمنائی رہا ہے
واٹس ایپ کے پیغام پر عمل نہیں کیا گیا تو ان اداروں کو حکم ملا کہ سارے افسروں کے نام بھیج دیئے جائں تاکہ انہی متعصب افسروں کو چنا جاسکے جنہیں واٹس ایپ کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقے سے نامزد کرانے میں ناکامی ہوئی تھی۔
جب سارے افسران کے نام ایک فہرست کی صورت میں سامنے آگئے تو انہی" ہیروں" کو چن لیا گیا جن کے لئے سارا پاکھنڈ رچایا گیا تھا
یہ سارا معاملہ عمل درآمد بینچ کے سامنے رکھا گیا تو بینچ نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی کہ ایسا ہمارے کہنے پر کیا گیا لیکن شائد یہ بات ذہن میں نہیں رکھی گئی کہ ایسے عمل کی ذمہ داری قبول کی جارہی ہے جو عمل درآمد بینچ کی پیدائش سے پہلے کا تھا
سبحان اللہ ۔۔۔۔ معجزے ہوں تو ایسے ہوں
اب یہ کھلے دل و دماغ سے سوچنے والوں پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس بدبودار معاملے کو کس زاوئیے سے دیکھتے ہیں؟

دوسرا معاملہ - تصویر لیک کرنے والا نامعلوم افسر اور علی زیدی
متعصب ارکان پر عدم اعتماد کے باوجود حسین نواز واٹس ایپ ٹولی کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ رمضان میں گھنٹوں انتظار اور سارا دن انٹرویو سے دل نہیں بھرا تو ایک نامعلوم ادارے کے نامعلوم افسر نے نامعلوم طریقے سے حسین نواز کی تصویر اپنے کسی سازشی بھائی کو پہنچا دی جس سے شائد پہلے ہی گٹھ جوڑ تھا۔
یہ سازشی سونامی جتھے کا علی زیدی بھی ہوسکتا ہے جس نے تمسخر اڑانے کے لئے اس تصویر کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا
جب "انگلی" بریگیڈ کے قابل نفرت انتہا پسندوں کے سوا ہر ایک نے اس عمل پر لعن طعن کی تو سونامی زیدی " یو ٹرن" لے گیا کہ میں اس قابل مذمت کام میں پہلا نہیں تھا
حسین نواز نے بینچ سے شکائت کی تو بتایا گیا کہ نامعلوم ادارے کے جس نامعلوم افسر نے تصویر لیک کر کے علی زیدی تک پہنچائی تھی اسے نامعلوم سزا دے کر نامعلوم مقام پر بھیج دیا گیا ہے
بہت سے لوگ تو یہ سمجھے تھے کہ الطاف حسین کے ساتھ ہی نامعلوم افراد کا کردار بھی ملک سے رخصت ہو چکا ہے لیکن ایسا لگتا ہے ان نامعلوم افراد سے ہماری جان نامعلوم برسوں تک نہیں چھوٹے گی۔
پھر سونامی بچے گالی دے کر پوچھتے ہیں کہ واٹس ایپ ٹیم اور سونامی جتھے کا تعلق کیوں جوڑا جاتا ہے؟

تیسرا معاملہ - واٹس ایپ ٹولی کے اعتراضات ۔ ۔ ۔ اداروں کے جواب ۔۔۔ اور بینچ کا ردعمل
اب باری تھی واٹس ایپ ٹیم کی کہ وہ سکھائے ہوئے طریقے پر حکومتی اداروں کو آڑے ہاتھوں لے ۔۔۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ کام بھی بھونڈے انداز میں کیا گیا
ایک ادارے پر کاغذات میں ردوبدل کا الزام لگایا تو ادارے نے جواب دیا کہ ادارے میں تمام ریکارڈ کمپیوٹر میں محفوظ ہے جس میں ردوبدل ممکن ہی نہیں ہے
نیب پر الزام لگایا کہ منگی کو وارننگ دی گئی تاکہ واٹس ایپ ٹیم کو دباو میں لایا جاسکے ۔ نیب نے جواب دیا کہ یہ وارننگ تو خود عدالت کے حکم پر دی گئی تھی جس کی تفصیل بھی پیش کر دی گئی
بینچ نے وارننگ کئے اوقات پر اعتراض کیا تو ثبوت پیش کئے گئے کہ واٹس ایپ ٹیم مئی کے مہینے میں پیدا ہوئی جبکہ عدالت کے حکم پر وارننگ اپریل کے مہینے میں دی گئی
بینچ کا پھر بھی یہی خیال تھا کہ نامعلوم افراد کی تشکیل شدہ واٹس ایپ ٹیم درست اور باقی سب غلط ہیں
اپنی اولاد سے تو سب ہی کو پیار ہوتا ہے چاہے یہ اولاد نامعلوم طریقے سے ہی وجود میں آئی ہو

چوتھا معاملہ - “ ہیروں “ نے اپنی نامزدگی سے قبل ہی افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میڈیا کو بھی کھنگالنا شروع کردیا تھا
واٹس ایپ ٹیم چھ ہیروں پر مشتمل ہے جس کے پاس محدود وقت ہے لیکن ان ہیروں نے ایسے ایسے کام دنوں میں کئے ہیں جو مہینوں اور سالوں میں بھی ممکن نہیں ہوتے۔ واٹس ایپ ٹیم کا “ مقدس“ کام زماں و مکاں کی قید سے بھی آزاد تھا
اس ٹیم کے “ ہیروں “ کو اپنی نامزدگی پر اتنا یقین تھ کہ انہیں نے اپنی نامزدگی سے قبل ہی کام شروع کردیا تھا ۔۔ ۔ کچھ نے تو صرف پرانی فائلوں سے گرد جھاڑی تھی اور سلسلہ وہیں سے شروع کر دیا تھا جہاں سے ٹوٹا تھا
واٹس ایپ ٹیم نے اپنے کام میں رکاوٹوں پر رپورٹ پیش کی جو لگ بھگ دوسو صفحات پر مشتمل تھی
ان میں سے ایک سو بیس صفحات صرف میڈیا سے متعلق تھے
پیش کی گئی تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ “ ہیروں “ نے گذشتہ دو ماہ میں بیسیوں چینلز پر سینکڑوں پروگرام دیکھے اور ہزاروں تبصرے بھی سنے
ان میں وہ پروگرام اور ٹاک شو بھی شامل تھے جو “ ہیروں ‘ کی نامزدگی سے قبل دکھائے گئے تھے
اس کے ساتھ ساتھ ان ہیروں کی نظر سوشل میڈیا پر بھی رہی تھی اور بیسیوں پوسٹ ان کی تنقید کا نشانہ بنے
اگر ٹی وہ چینلز اور سوشل میڈیا کے ان پروگراموں کو دیکھا اور سنا جئے تو اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے ۔ ۔ ۔ اتنا زیادہ وقت کہ گذشتہ دو ماہ میں “ ہیروں ‘ نے اور شائد کچھ بھی نہیں کیا ہوگا ۔
اور یہ کام کوہ نور کے ان ہیروں نے اپنی نامزدگی سے پہلے ہی شروع کردیا تھا ۔ ۔ ۔
سب مل کر بولو ۔ ۔ ۔ سبحان اللہ
صرف اتنا ہی نہیں ان جناتی ہیروں نے اور بھی بہت کچھ کیا ہے ۔ ۔ ۔ لوگوں کے فون ریکارد کئے ہیں ۔ ۔ گواہون کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہے اور مالکوں سے رہنمائی لی ہے
صرف چھ عدد “ ہیروں “ پر مشتمل اس جناتی ٹیم کی کارکردگی اتنی متاثر کن ہے کہ ان کو مستقل ادارہ بنا دیا جئے تو ملک کی دو تین ایجنسیوں پر اٹھنے والے اخراجات کو بچایا جاسکتا ہے۔
ہنسی اس بات ہر آتی ہے کہ جو نادیدہ ہاتھ یہ سب کچھ کروا رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ یہی کام کیا ہے لیکن اب بھی اسی بھونڈے انداز میں کر رہے ہیں کہ بیسویں صدی کے آنے کا ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔
یہ نادیدہ ہاتھ کبھی پیمرا کو دھمکی آمیز کال کرتے ہیں
کبھی بول چینل کو اپنا ماؤتھ پیس بنا لیتے ہیں
واٹس ایپ کے ذریعے من پسند متعصب افراد کو نامزد کروا لیتے ہیں
کوئی یہ جسارت تو کر نہیں سکتا کہ جس کام کا حکم انہیں قدرت کی جانب سے ملا ہے اسے بند کردیا جائے
گذارش بس اتنی سی ہے کہ یہ گندہ کام اتنے بھونڈے طریقے پر تو نہ کرو

 از ابرار حسین سید

14
قرآن / تقویٰ اور متقی (جزو دوم )
« بروز: جون 30, 2017, 09:35:45 ص »
تقویٰ اور متقی  (جزو   دوم )

جزو اول میں قرآنی اصطلاحِ تقویٰ سے وابسطہ فکر کی اہمیت کا ذکر کر کے اس اصلاح کے قرآن میں استعمال کا مطالعہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔تقوی کی  کوئی حتمی مختصرتعریف کرنا  شاید ممکن نہیں ۔ اگر قرآن کے تمام اوامر و نواحی ہی کو تقویٰ کی تعریف کہا جائے تو شاید یہ حقیقت سے زیادہ قریب تر ہو گا۔ پچھلے تعارفی اجزا کے بعد ہم اپنا اصل سفر شروع کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ قرآن مجید میں تقویٰ کا کن مقامات پر اور کیسے استعمال ہوا ہے۔ اس جزو میں پانچ مقامات سامنے لائے جا رہے ہیں جہاں تقویٰ کا لفظ کسی متضاد لفظ کے  ساتھ جوڑے کی شکل میں آیا ہے۔ الفاظ کا یہ تضاد لفظ سے وابسطہ فکر کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے سو اس پہ غور کیجیئے۔ 

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ [92:5] وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ [92:8]

اس مقام پر اتقیٰ استغنیٰ کے مقابل آیا ہے۔ استغنی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ہر شے سے بے نیاز ہے اور اس کا یہ مقام ہے۔ بندہ بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے رستے کا پابند رہنا ہے اور یہ اس کا تقویٰ ہے۔

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا [78:31] إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًۭا [78:21] لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًۭا [78:22]


یہاں متقین کا لفظ طاغین کے مقابل آیا ہے۔
طغیٰ کا مفہوم حد سے تجاوز کرنا یا سرکشی ہے۔ سمندر یا دریا کے پانی میں طغیانی آتی ہے تو وہ حدوں سے تجاوز کرتا ہے۔ اس حوالے سے تقویٰ کا مفہوم ہوا حدود کا خیال کرنا اور طغیانی یا سرکشی نہ کرنا۔

وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى [18:92] لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى [15:92] 
 
یہاں تقویٰ اشقیٰ کے مقابل آیا ہے۔ شقی کے مفاہیم میں سختی، تکلیف اور بدبختی شامل ہیں۔ شقی کے مقابل قرآن میں سعید بھی آیا ہے۔ یعنی تقی اور سعد دونوں شقی کے متضاد ہیں۔ مشقت سختی میں سے گزرنے کو کہتے ہیں اور شقی القلب سخت دل انسان کو کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تقویٰ کا مفہوم نرم دلی اور سعادتمندی ہے۔

وَإِنَّهُۥ لَتَذْكِرَةٌۭ لِّلْمُتَّقِينَ [48:68] وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ [49:69]

یہاں متقین کا ذکر مکذبین کے مقابل ہوا ہے۔ مکذبین وہ ہیں جو دین کو جھٹلاتے   ہیں سو متقی اس حوالے سے وہ ہوا جو دین کو سچ جانتا ہو۔

وَأُزْلِفَتِ ٱلْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ [26:90] وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ [26:91]

اس مقام پہ متقین کے مقابل غاوین آیا ہے۔ غاوین غوی سے ہے جس کا معنی صحیح راہ سے بھٹک جانا یا دھوکا کھانا۔ اغوا سے بھی عمومی مراد کسی کو اٹھا کر اپنے مقام سے دور لے جانے کے ہیں۔  اس حوالے سے تقویٰ کا معنی ہوا صحیح رستہ پر رہنا دھوکہ کھانے سے بچنا۔

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى مَقَامٍ أَمِينٍۢ [44:51] فِى جَنَّـٰتٍۢ وَعُيُونٍۢ [44:52] إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ [44:43] طَعَامُ ٱلْأَثِيمِ [44:44]


یہاں متقین کا استعمال اثیم کے مقابل ہوا ہے۔ اثم کا عمومی معنی گناہ یا اللہ کی نافرمانی ہے۔ الاٰثم اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تھکان کی وجہ سے آہست چلے۔ اس سے اثم ایسے اعمال ہوئے جو انسان کو کمزور کر دیں۔ اس حوالے سے تقویٰ گناہ سے بچنا اور اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ہوا کہ انسان ان اعمال سے بچے جو اس کی ذات کو اس کے جسم کو اس کی روح کو اس کی خودی کو کمزور کریں۔


وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ [9:114] وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [9:115]

ان آیات میں تقوی ٰ کا مفہوم جاننے سے پہلے اواہ اور حلیم کا معنی جاننا ضروری ہے۔ اواہ کا مادہ' اوہ' ہے جسے ہم اب بھی عموماً اس وقت بولتے ہیں جب کسی دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرنے کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ حلیم حلم سے ہے اور حلم وہ متانت و سنجیدگی ہے جو ذہنی بلوغت سےآتی ہے جس میں جذباتیت کی جگہ ٹھڈے دل سے چیزوں پر غور کرنے اور ردِ عمل دینے کی صلاحیت غالب آ جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم کے بارے میں اواہ حلیم کے صفت بیان کر کے ان کی اعلیٰ انسانی ارتقا سے آگاہ کیا  گیاہے کہ ان کے اعمال کی کیا تحریک تھی یعنی انہوں نے کام اپنے دردمند دل اور ٹھندی سوچ کی بنیاد پر کیا تھا نہ کہ کسی جذباتی ردِ عمل کے طور پر۔

ان آیات میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالی سے اپنے والد کے لیئے مغفرت کی درخواست کی لیکن پھر جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ ان کے والد کا معاملہ اللہ سے دشمنی کا ہے تو  حضرت ابراہیم نے اس معافی کی خواہش سے براءت کا اظہار کر دیا۔
یہاں مزید کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو رستہ دکھا کر گمراہ کر دے جب تک اس پر تقویٰ کو واضح نہ کر دے۔ اگر غور کریں تو واضح ہو تا ہے کہ یہاں تقویٰ سے مراد درست اور غلط میں تمیز کی صلاحیت ہے جو اگر انسان کو ودیعت ہو جائے تو انسان پھر اس کی بنا پر فیصلہ کرتا ہے نہ کہ اس بنا پر کہ فلاں میرا بیٹا ہے یا باپ۔ حضرت ابراہیم اگرچہ اپنے باپ کے غلط رویئے سے آگاہ تھے لیکن پھر بھی بطور ایک بیٹے کے انہوں نے اپنے باپ کے لیئے مغفرت کی خواہش کی۔ لیکن جب ان کا علم اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اصولوں میں آگے بڑھا تو ان کو پتہ چلا کہ جب کوئی انسان اللہ کی دشمنی میں آگے بڑھ جائے تو وہ خود ہی اپنی مغفرت کے دروازے بند کر دیتا ہے اور ایسے میں کسی بھی انسان کے لیئے اس کی مغفرت کی خواہش یا درخواست  نہ صرف بے معنی ہے بلکہ تقویٰ سے متصادم ہے۔ 

اس مکالمے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ہر شے کا علم رکھنے کا تذکرہ نہایت لطیف بیان ہے جسے الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

15
قرآن / تقویٰ اور متقی (جزو اول)
« بروز: جون 30, 2017, 09:29:29 ص »
تقویٰ اور متقی  (جزو اول)

قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی بنیادی شرط ہی تقویٰ ہے۔
لفظ تقویٰ کی فہمِ اسلامی میں کلیدی حیثیت ہے۔ اس کا اندازہ سورہ بقرہ کے اس پہلے مکالمے سے ہوتا ہے۔

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ

"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں جو ہدایت ہے متقین کے لیئے"

یہاں اللہ تعالی کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ اس کائینات میں حقیقت کی کھوج میں سرگرداں حیران و پریشان انسان کو جو یقینی رہنمائی درکار ہے وہ اس کتاب یعنی قرآن میں موجود ہے جو شک و شبہ سے پاک ہے لیکن یہ رہنمائی متقین کے لیئے ہے۔ سو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتاب ہدایت تو سب انسانوں کے لیئے ہونی چاہیئے یہ صرف متقین کی شرط کیوں عائد کی گئی۔ سو اس شرط کی حقیقت جاننے اور کتاب سے ہدایت حاصل کرنے کے لیئے لا محالہ متقین کے درست مفہوم کا ادراک لازم ٹھہرا۔

ہدایت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ یقیناً منزل کو پہنچنے کے لیئے۔ سو اسی حوالے سے ایک مثال دیکھتے ہیں۔ آپ کو ایک کار دی جائے اور کہا جائے کہ یہ کار آپ کو منزل تک پہنچا سکتی ہے بشرطیکہ آپ اس کو استعمال اس کے مینول پر دی ہوئی ہدایات کے مطابق کریں۔ اسی بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ کار کا مینول اسی کے لیئے ہدایت کا باعث ہو سکتا ہے جو اسے ہدایت حاصل کرنے کے لیئے استعمال کرنے کو تیار ہو جو اسے مینیول سمجھے اور مینول سمجھ کر استعمال کرے۔ سو اگر انسانی زندگی ایک کار ہے اور اختتام باالخیر منزل تو قرآن کتابِ ہدایت یا مینول اورتقوی اس بات کا تسلیم کرنا کہ کتابِ  ہی مینول ہے اور اس پر عمل لازم۔ اسی بات کو ایک اور انداز سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص  کوئی مشین خرید کر لایا ہے اب وہ اس کا درست استعمال کرنا چاہتا ہے کہ اس سے بہترین فائدہ بھی حاصل کرے اور مشین خراب بھی نہ ہو۔ مشین کو درست طریقے سے چلا کر بہترین فائدہ حاصل کرنے اور خرابی سے بچانے کی خواہش  کو تقویٰ تصور کریں۔ اب کوئی انسان اس خواہش کو پورا کرنے کے لیئے کس سے رجوع کرے گا؟ یقیناً اس مشین کے بنانے والی کمپنی سے۔ اور وہ کمپنی مشین کو درست طور پر چلانے کے خواہشمند انسان کو ایک کتابچہ یا مینول دے گی جس میں وہ تمام ضروری ہدایات درج ہوں گی جن سے اس مشین کا بہترین استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ خواہش جسے ہم تقویٰ کا نام دے رہے ہیں اس میں اس بات کی احتیاط بھی ہے کہ مشین خراب نہ ہو جائے جو کہ پرہیز گاری کے زمرے میں آسکتی ہے اور مشین کے خراب ہونے کا ڈر بھی ہے جسے آپ وہ ڈر کہہ سکتے ہیں جو تقویٰ کے عمومی تراجم میں ذکر کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم پہلو بھی ہے جسے ڈر اور پرہیز گاری دونوں میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ہم مشین کو خراب ہونے سے بچانے کے لیئے ڈر اور پرہیزگاری ملحوظ خاطر ضرور رکھتے ہیں لیکن کیا ہمارا یہی مقصد ہے کہ مشین کو خرابی سے بچانا ہے۔ اگر کسی مشین کو خرابی سے بچانا ہی اولین یا واحد مقصد ہو تو پھر اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ اسے مکمل طور پر بند کر کے کسی ڈبے میں ڈال کر کہیں چھپا دیں کہ نہ وہ کبھی استعمال ہو اور نہ خراب ہو۔ ڈر اور پرہیز گاری کے عمومی تراجم سے یہی مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

کوئی مشین بنیادی طور پر اس مقصد سے بنائی نہیں جاتی  کہ اسے محفوظ رکھنا ہے۔ ہر مشین کے کچھ بنیادی مقاصد ہوتے ہیں جو اس کی صلاحیت میں مضمر ہوتے ہیں یعنی مشین جو کچھ کرنے پر قادر ہے اس میں اس کے مقاصد کا اشارہ ہے۔ احتیاط صرف یہ ہوتی ہے کہ مشین خراب نہ ہو اور ان کاموں کے لیئے استعمال نہ ہو جو اس کے مقاصد کے برخلاف اور کسی بڑی سکیم میں نقصان دہ ثابت ہوں۔
سو تقویٰ کا پہلا اہم تقاضا منفیت یعنی پرہیز نہیں بلکہ مثبیت یعنی درست عمل ہے۔

عمومی طور پر مختلف تراجم میں تقویٰ کا مفہوم ادا کرنے  والے دو الفاظ یعنی ڈر یا خوف اور پرہیز گاری  بظاہر درست دکھائی دیتے ہیں لیکن کیا یہ ہر مقام پر تقویٰ کا درست مفہوم ادا کرنے پر قادر ہیں اور قرآن کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک اور مکمل پہنچا رہے ہیں یا اس میں کسی کمی یا کجی کا باعث ہیں؟ یہ جاننے کے لیئے ہمیں اس معاملے کو گہرائی میں دیکھنا ہو گا ۔
 
 متقی وہ شخص ہے جو اپنی زندگی تقویٰ پر گزارتا ہے یعنی تقویٰ زندگی کا ایک بنیادی اُصول ہے۔ یا یوں کہیں کہ متقی اپنے تمام اعمال کی بنیاد تقویٰ پر رکھتا ہے ، وہ ہر عمل سے پہلے اسے تقویٰ کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اگر وہ تقویٰ کے مطابق ہو تو کرے گا اور اگر نہ ہو تو نہیں کرے گا۔  یا یوں کہیں کہ اس کا تقویٰ اسے جو کرنے کو کہے گا وہ اسے ضرور کرے گا چاہے اس میں اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ کسی کی امانت لوٹانے میں بظاہر مال کا نقصان ہے لیکن تقویٰ کا تقاضا ہے کہ امانت لوٹائی جائے سو وہ امانت لوٹائے گا  اور اس کا تقویٰ جس عمل سے رکنے کو کہے گا وہ اس سے باز رہے گا اگرچہ بظاہر اس عمل کے کرنے میں کیسا ہی فائدہ کیوں نہ نظر آئے جیسا کہ اگر کسی کو رشوت کا موقع میسر ہو اور اس میں بڑی آمدنی کی توقع ہو لیکن تقوی ٰکا تقاضا یہ ہو کہ رشوت نہیں لینی تو تقویٰ پر چلنے والا رشوت سے ہر صورت باز رہے گا ۔ تقویٰ کی یہ  تعریف  کہاں سے آئی اسے جاننے کے لیئے ہمیں اس لفظ کی ایک مکمل سیر  درکار ہے۔

قرآنی الفاظ کے درست مفہوم تک رسائی کے کچھ طریقے ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم ان تصورات کا درست فہم حاصل کر سکتے ہیں جن سے آشنائی ہے ہمیں حقیقت تک لے جا سکتی ہے۔
پہلا طریقہ اسلاف کی پیروی کا ہے۔ یہ ایک عمومی طریقہ ہے جس سے اگرچہ بہت سی درست معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے لیکن کچھ مقامات پر مسائل بھی متوقع ہیں جن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ ایک اہم وجہ صدیوں کا وہ فاصلہ ہے جس میں نسل در نسل کسی بھی بات کو سمجھنے میں فرق آتے چلے جانا قابلِ فہم ہے۔
دوسرا طریقہ عربی الفاظ کا جذری قاعدہ ہے جس کے مطابق تقریباً تمام اصل عربی الفاظ سہ حرفی جذر یا روٹ سے ماخذ ہیں۔ اگر آپ کسی بھی لفظ کو اس کے جذر سے تحقیق کریں تو اس کے درست مفہوم تک پہنچنے کا رستہ کھل جاتا ہے کیونکہ ہر لفظ اپنے جذر سے تعلق بہرصورت قائم رکھتا ہے۔
تیسرا اور سب سے اہم وہ طریقہ ہے جس کا قرآن نے خود ذکر کیا اور وہ تصریف الآیات کا طریقہ ہے۔ اس میں الفاظ کو مختلف انداز میں مختلف تراکیب میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور ان تراکیب کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ درست معنی کیا ہونا چاہیئے۔ تصریف ہی میں ایک اہم طریقہ الفاظ کے جوڑے لانے کا ہے جس میں متضاد الفاظ ایک دوسرے کی خوب نشاندہی کر دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق تقویٰ  کا اصل جذر  وقی یا وقو ہے اور تقی یا تقو اس کی ایک بعد کی حالت ہے۔ سو  اصل مادہ ہے وقی جس کا معنی ہے:۔
حفاظت کرنا، نقصان دہ چیز سے بچانا،  نگہداشت کرنا،  احتیاط کرنا، محتاط رہنا۔ لباس التقویٰ وہ لباس جو حفاظت کرے۔

To be on guard, to safeguard, to prevent, to obviate, to avoid, remain cautious, be in a state of preparation for something, to fear something, to put something in between in order to guard from something, garments to shield from

اس جذر سے اخذ شدہ نو الفاظ قرآن مجید میں کل 258 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔
Of  this  root,  nine  forms  occur 258  times  in  the  Qur'an 

وقی waqa  14
یوقی  yuqa  2
اتقی  ittaqa   166   
اَتقی  atqa  2
واقی   waqi  2
    تقی  taqiyy 3
 تقاۃ'   tuqatun 2
تقوی  taqwaa 17
متقون  muttaqun 49

So who is a muttaqi
In modern social science language, a Muttaqi is the law abiding citizen of Islamic state governed in the light of supreme divine law

صفحات: [1] 2